Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010

¾اكستان Ù

45 - 64
تھیں لیکن حضرت عائشہ اَور حضرت اُم سلمہ کی ہم پلہ اِس میں اَور کوئی بیوی نہ تھی ۔(ابن سعد) 
مروان بن الحکم حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسائل دریافت کرتے تھے اَور کہتے تھے کہ ہم اَور کسی سے کیوں پوچھیںجبکہ ہمارے اَندر آنحضرت  ۖ کی بیویاں موجود ہیں۔ (مسند امام احمد بن حنبل) 
اگر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتاوی جمع کیے جائیں تو خاصی تعداد میں جمع ہوسکتے ہیں اَور اُن کے مجموعہ کا ایک رسالہ بن سکتا ہے۔
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت  ۖ  کے اِرشادات سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ بال گوندھ رہی تھیں آنحضرت  ۖ خطبہ کے لیے (مسجد ِ نبوی میں ) کھڑے ہوئے۔ زبان مبارک سے نکلا ہی تھا کہ اَیُّھَا النَّاسُ (اے لوگو!) تو حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہانے سن لیا (کیونکہ اَزواج ِ مطہرات کے حجرے مسجد ِ نبوی سے ملے ہوئے تھے) آواز سنتے ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اَور پورا خطبہ سنا ۔(مسند ِ امام احمد)
ایک مرتبہ آنحضرت  ۖ سے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! میں اپنے سر کی مینڈھیاں بہت سختی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل ِجنابت کے لیے اُن کو کھولا کروں؟ فرمایا نہیں! بس اِتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر میں تین بار لپ بھر کر پانی ڈال لیا کرو (جس سے بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں) اِس کے بعد سارے بدن پر پانی بہا لیا کرو، ایساکرنے سے پاک ہوجاؤگی۔ (مسلم شریف) 
 حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاروایت فرماتی تھیں کہ آنحضرت  ۖ نے مجھے سکھایا کہ مغرب کی اَذان کے وقت یہ پڑھا کرو  : 
 اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارُ نَھَارِکَ وَاَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْلِیْ 
 اے اللہ ! یہ تیری رات کے آنے اَور دِن کے جانے اِور تیرے بُلانے کی آوازوں کا وقت ہے سو مجھے بخش دے۔
ایک مرتبہ آنحضرت  ۖ دَولت کدہ میں تشریف رکھتے تھے اَور آپ  ۖ کے پاس حضرت   اُم سلمہ رضی اللہ عنہااَور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہابھی تھیں کہ اچانک حضرت عبداللہ بن اُم ِ مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اِس لیے یہ سمجھ کر اُن سے کیا پردہ کرنا ہے دونوں بیبیاں بیٹھی رہیں اَور پردہ نہ کیا۔ آنحضرت  ۖ نے فرمایا کہ اِن سے پردہ کرو۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درسِ حدیث 5 1
4 چار اَفراد سے محبت کا حکم : 6 3
5 اِسلام لانے کے وقت حضرت سلمان فارسی کی عمر ڈھائی سو برس تھی : 7 3
6 عشرۂ مبشرہ کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے : 7 3
7 خلفائے اَربعہ کے بعد علمی برتری کے اعتبار سے ابن ِ مسعود کا درجہ 7 3
8 اپنے خزانچی اَور مؤذن حضرت بلال کو ہدایت : 8 3
9 حضرت اَبوبکر نے آزاد کیا، حضرت عمر نے بڑے لقب سے نوازا : 8 3
10 عِلم سے کورے ایک آنکھ والے محققین کی شرارتیں اَور اُن کا جواب 9 3
11 پہلا جواب : 9 3
12 دُوسرا جواب : 10 3
13 ایک اَور شرارتی : 10 3
14 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا 11 3
15 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی 11 3
16 فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں 11 3
17 بغیر تنخواہ دار مجاہدین کے لیے دونوں میں سے کوئی سا بھی طریقہ اِختیار کیا جاسکتا ہے 12 3
18 حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ : اعترافِ تقصیر اَور تلافی 12 3
19 سب سے بڑا بیٹا دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ علاقہ کاگورنر 13 3
20 ملفوظات شیخ الاسلام 14 1
21 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 14 20
22 علمی مضامین 19 1
23 قیام ِ پاکستان اَور مسلمانانِ بر ِ صغیر کے لیے علمائِ دیو بند کا بے داغ کردار 19 1
24 پاکستان کا طرز ِ حکومت : 24 1
25 سازشوں کے بعد بچ جانے والا موجودہ پاکستان 33 1
26 تربیت ِ اَولاد 34 1
27 لڑکیوں کے ناک کان چِھدْوانا : 34 26
28 کان ناک چھیدنے کا حکم : 35 26
29 چھوٹے بچوں کو چھیڑ چھاڑ کر نے کا حکم : 35 26
30 اَولادکے واسطے دُعاء : 35 26
31 اَولاد کے نیک ہونے اَور بُری اَولاد سے بچنے کی اہم دعائیں 36 26
32 وفیات 37 1
33 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
34 حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا 38 33
35 قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : 38 33
36 ہجرت : 38 33
37 مدینہ منورہ میں سکونت: 40 33
38 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 33
39 دَانشمندی : 43 33
40 حضرت اُم ِ سلمہ کے بچوں کی پرورِش 48 33
41 صدقہ کرنے کی ہدایت 48 33
42 اَمر بالمعروف : 49 33
43 وفات 49 33
44 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 50 1
45 ماںباپ کا احترام : 50 44
46 گلد ستۂ اَحادیث 52 1
47 جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی 52 46
48 پیٹ میں لقمۂ حرام جانے سے چالیس دِن تک کوئی دُعاء قبول نہیں ہوتی : 53 46
49 دینی مسائل 54 1
50 ( قسم کھانے کا بیان ) 54 49
51 قسم کس طرح ہوتی ہے : 55 49
52 تقریظ وتنقید 57 1
53 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 60 44
54 اَخبار الجامعہ 61 1
Flag Counter