ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
تھیں لیکن حضرت عائشہ اَور حضرت اُم سلمہ کی ہم پلہ اِس میں اَور کوئی بیوی نہ تھی ۔(ابن سعد) مروان بن الحکم حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مسائل دریافت کرتے تھے اَور کہتے تھے کہ ہم اَور کسی سے کیوں پوچھیںجبکہ ہمارے اَندر آنحضرت ۖ کی بیویاں موجود ہیں۔ (مسند امام احمد بن حنبل) اگر حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتاوی جمع کیے جائیں تو خاصی تعداد میں جمع ہوسکتے ہیں اَور اُن کے مجموعہ کا ایک رسالہ بن سکتا ہے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت ۖ کے اِرشادات سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ بال گوندھ رہی تھیں آنحضرت ۖ خطبہ کے لیے (مسجد ِ نبوی میں ) کھڑے ہوئے۔ زبان مبارک سے نکلا ہی تھا کہ اَیُّھَا النَّاسُ (اے لوگو!) تو حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہانے سن لیا (کیونکہ اَزواج ِ مطہرات کے حجرے مسجد ِ نبوی سے ملے ہوئے تھے) آواز سنتے ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اَور پورا خطبہ سنا ۔(مسند ِ امام احمد) ایک مرتبہ آنحضرت ۖ سے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! میں اپنے سر کی مینڈھیاں بہت سختی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل ِجنابت کے لیے اُن کو کھولا کروں؟ فرمایا نہیں! بس اِتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر میں تین بار لپ بھر کر پانی ڈال لیا کرو (جس سے بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں) اِس کے بعد سارے بدن پر پانی بہا لیا کرو، ایساکرنے سے پاک ہوجاؤگی۔ (مسلم شریف) حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاروایت فرماتی تھیں کہ آنحضرت ۖ نے مجھے سکھایا کہ مغرب کی اَذان کے وقت یہ پڑھا کرو : اَللّٰھُمَّ اِنَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارُ نَھَارِکَ وَاَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْلِیْ اے اللہ ! یہ تیری رات کے آنے اَور دِن کے جانے اِور تیرے بُلانے کی آوازوں کا وقت ہے سو مجھے بخش دے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ۖ دَولت کدہ میں تشریف رکھتے تھے اَور آپ ۖ کے پاس حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہااَور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہابھی تھیں کہ اچانک حضرت عبداللہ بن اُم ِ مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اِس لیے یہ سمجھ کر اُن سے کیا پردہ کرنا ہے دونوں بیبیاں بیٹھی رہیں اَور پردہ نہ کیا۔ آنحضرت ۖ نے فرمایا کہ اِن سے پردہ کرو۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وہ