ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
اكستان |
|
چنانچہ آپ ۖ نے ایسا ہی کیا اَور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کردیا اَور بال منڈ والیے۔ جب صحابہ نے یہ ماجرا دیکھا تو سب احرام کھولنے پر راضی ہوگئے اَور اپنے اپنے جانور ذبح کر ڈالے اَور آپس میں ایک دُوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ ( بخاری)اَور سب نے احرام ١ کھول دیا۔ حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا کی اِس رائے کے متعلق جس سے مشکل حل ہوئی حافظ ابن حجر الاصابہ میں لکھتے ہیں : وَاِشَارَتُھَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّةِ تَدُلُّ عَلٰی وُفُوْرِ عَقْلِھَا وَصَوَابِ رَأْیِھَا۔ ''حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ۖ کو حضرت اُم سلمہ کے رائے دینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بڑی عقلمند اَور ٹھیک رائے رکھنے والی تھیں۔ درحقیقت یہ بڑی سمجھ کی بات ہے کہ اِنسان موقع کو پہچانے اَور یہ سمجھ لیوے کہ اِس وقت لوگ اپنے مقتدا کے قول پر توجہ نہیں دے رہے ہیں لیکن اِس کا عمل سامنے آئے گا تو اُس کی اقتداء کر لیں گے۔ '' آنحضرت ۖ کی مصاحبت سے خوب فائدہ اُٹھایا اَور علوم حاصل کیے : حضرت اُم سلمہ آپ ۖ کے نکاح میں آگئیں تو آپ ۖ کی مصاحبت کو بہت غنیمت جانا اَور برابر آپ ۖ کے اِرشادات محفوظ کرتی رہیں اَور آپ ۖ سے سوال کر کے اپنا علم بڑھا تی رہیں پھر اِس علم کو اُنہوں نے پھیلایا۔ حدیث میں اُن کے شاگرد صحابہ بھی تھے اَور تابعین بھی۔ حضرت عائشہ اَور حضرت عبداللہ بن عباس کو بھی اِن کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ) حدیث شریف کی کتابوں میں جو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات ملتی ہیں اُن کی تعداد ٣٧٨ ہے۔ محمود بن لبید فرماتے تھے کہ آنحضرت ۖ کی سب ہی اَزواجِ مطہرات آپ کے اِرشادات کو یاد کرتی ١ جب حج یا عمرہ کوجاتے ہیں تو ایک مقررہ جگہ پر غسل کر کے ایک چادر تہمند کی طرح باندھ لیتے ہیں اَور ایک اَوڑھ لیتے ہیں اَور تلبیہ پڑھ لیتے ہیں حج ختم کرنے تک اِسی طرح رہتے ہیں اِس کو احرام کہا جاتا ہے یہ مردوں کے احرام کا طریقہ ہے۔ اَور جب حج یا عمرہ سے فارغ ہوجاتے ہیں تو احرام کھولتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ سر منڈواتے یا بال کٹواتے ہیں۔ اِس روایت میں اِسی کو ذکر کیا گیا ہے۔