Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010

اكستان

44 - 64
چنانچہ آپ  ۖ نے ایسا ہی کیا اَور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کردیا اَور بال منڈ والیے۔ جب صحابہ نے یہ ماجرا دیکھا تو سب احرام کھولنے پر راضی ہوگئے اَور اپنے اپنے جانور ذبح کر ڈالے اَور آپس میں ایک دُوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ ( بخاری)اَور سب نے احرام   ١  کھول دیا۔ 
حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا کی اِس رائے کے متعلق جس سے مشکل حل ہوئی حافظ ابن حجر الاصابہ میں لکھتے ہیں  :
وَاِشَارَتُھَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّةِ تَدُلُّ عَلٰی وُفُوْرِ عَقْلِھَا وَصَوَابِ رَأْیِھَا۔ 
''حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت  ۖ  کو حضرت اُم سلمہ کے رائے دینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بڑی عقلمند اَور ٹھیک رائے رکھنے والی تھیں۔ درحقیقت یہ بڑی سمجھ کی بات ہے کہ اِنسان موقع کو پہچانے اَور یہ سمجھ لیوے کہ اِس وقت لوگ اپنے مقتدا کے قول پر توجہ نہیں دے رہے ہیں لیکن اِس کا عمل سامنے آئے گا تو اُس کی اقتداء کر لیں گے۔ ''
آنحضرت  ۖ  کی مصاحبت سے خوب فائدہ اُٹھایا اَور علوم حاصل کیے  : 
حضرت اُم سلمہ  آپ  ۖ کے نکاح میں آگئیں تو آپ  ۖ کی مصاحبت کو بہت غنیمت جانا اَور برابر آپ  ۖ کے اِرشادات محفوظ کرتی رہیں اَور آپ  ۖ سے سوال کر کے اپنا علم بڑھا تی رہیں پھر اِس علم کو اُنہوں نے پھیلایا۔ حدیث میں اُن کے شاگرد صحابہ   بھی تھے اَور تابعین بھی۔ حضرت عائشہ  اَور حضرت عبداللہ بن عباس  کو بھی اِن کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ) 
حدیث شریف کی کتابوں میں جو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات ملتی ہیں اُن کی تعداد  ٣٧٨ ہے۔ محمود بن لبید فرماتے تھے کہ آنحضرت  ۖ  کی سب ہی اَزواجِ مطہرات آپ کے اِرشادات کو یاد کرتی 
  ١   جب حج یا عمرہ کوجاتے ہیں تو ایک مقررہ جگہ پر غسل کر کے ایک چادر تہمند کی طرح باندھ لیتے ہیں اَور ایک اَوڑھ لیتے ہیں اَور تلبیہ پڑھ لیتے ہیں حج ختم کرنے تک اِسی طرح رہتے ہیں اِس کو احرام کہا جاتا ہے یہ مردوں کے احرام کا طریقہ ہے۔ اَور جب حج یا عمرہ سے فارغ ہوجاتے ہیں تو احرام کھولتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ سر منڈواتے یا  بال کٹواتے ہیں۔ اِس روایت میں اِسی کو ذکر کیا گیا ہے۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درسِ حدیث 5 1
4 چار اَفراد سے محبت کا حکم : 6 3
5 اِسلام لانے کے وقت حضرت سلمان فارسی کی عمر ڈھائی سو برس تھی : 7 3
6 عشرۂ مبشرہ کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے : 7 3
7 خلفائے اَربعہ کے بعد علمی برتری کے اعتبار سے ابن ِ مسعود کا درجہ 7 3
8 اپنے خزانچی اَور مؤذن حضرت بلال کو ہدایت : 8 3
9 حضرت اَبوبکر نے آزاد کیا، حضرت عمر نے بڑے لقب سے نوازا : 8 3
10 عِلم سے کورے ایک آنکھ والے محققین کی شرارتیں اَور اُن کا جواب 9 3
11 پہلا جواب : 9 3
12 دُوسرا جواب : 10 3
13 ایک اَور شرارتی : 10 3
14 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا 11 3
15 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی 11 3
16 فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں 11 3
17 بغیر تنخواہ دار مجاہدین کے لیے دونوں میں سے کوئی سا بھی طریقہ اِختیار کیا جاسکتا ہے 12 3
18 حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ : اعترافِ تقصیر اَور تلافی 12 3
19 سب سے بڑا بیٹا دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ علاقہ کاگورنر 13 3
20 ملفوظات شیخ الاسلام 14 1
21 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 14 20
22 علمی مضامین 19 1
23 قیام ِ پاکستان اَور مسلمانانِ بر ِ صغیر کے لیے علمائِ دیو بند کا بے داغ کردار 19 1
24 پاکستان کا طرز ِ حکومت : 24 1
25 سازشوں کے بعد بچ جانے والا موجودہ پاکستان 33 1
26 تربیت ِ اَولاد 34 1
27 لڑکیوں کے ناک کان چِھدْوانا : 34 26
28 کان ناک چھیدنے کا حکم : 35 26
29 چھوٹے بچوں کو چھیڑ چھاڑ کر نے کا حکم : 35 26
30 اَولادکے واسطے دُعاء : 35 26
31 اَولاد کے نیک ہونے اَور بُری اَولاد سے بچنے کی اہم دعائیں 36 26
32 وفیات 37 1
33 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
34 حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا 38 33
35 قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : 38 33
36 ہجرت : 38 33
37 مدینہ منورہ میں سکونت: 40 33
38 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 33
39 دَانشمندی : 43 33
40 حضرت اُم ِ سلمہ کے بچوں کی پرورِش 48 33
41 صدقہ کرنے کی ہدایت 48 33
42 اَمر بالمعروف : 49 33
43 وفات 49 33
44 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 50 1
45 ماںباپ کا احترام : 50 44
46 گلد ستۂ اَحادیث 52 1
47 جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی 52 46
48 پیٹ میں لقمۂ حرام جانے سے چالیس دِن تک کوئی دُعاء قبول نہیں ہوتی : 53 46
49 دینی مسائل 54 1
50 ( قسم کھانے کا بیان ) 54 49
51 قسم کس طرح ہوتی ہے : 55 49
52 تقریظ وتنقید 57 1
53 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 60 44
54 اَخبار الجامعہ 61 1
Flag Counter