ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
اكستان |
|
چھپا ہے خدام الدین میں بھی چھپا ہے وہ مضمون اَور اُس کی تحریر اَور تحریر کا ترجمہ سب کے فوٹووہ چیزیں چھپیں ہیں تو اِن لوگوں کو کوئی خبر نہیں ہوتی۔ اِن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا : جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ (حضرت بلال) اِتنے بڑے درجہ کے شمار ہوتے تھے کہ جب شام کے علاقے میں لڑائیاں ہو رہی تھیں جہاد ہو رہا تھا فتوحات ہو رہی تھیںتوحضرت بلال حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہمااَور بلال آگے آگے تھے یہ کہتے تھے کہ جو علاقہ مسلمانوں نے جہاد کے ذریعہ سے فتح کیا ہے وہ بانٹ دیا جائے مجاہدین کو دے دیا جائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اِس سے بہت اِختلاف تھاوہ فرماتے تھے کہ اگر مجاہدین کو میں دے دیتا ہوں تو یہ پینتیس ہزار پچاس ہزار ساٹھ ہزار ہیں اگر یہ علاقہ اِن کو دے دیا جائے تو باقی کا کیا ہو گا یہ تو سب کے سب نواب ہو جائیں گے بڑے بڑے زمیندار ہو جائیں گے تو باقیوں کا کیسے ہو گا یہ میں نہیں کروں گا یہ یہ کہتے تھے کہ ایسے ہی کریںاَڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی : حضرت عمر دُعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بلال کے بارے میں بلال کے مقابلے میں تو میری مدد فرمامسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی ٹھیک یہ بھی ٹھیک لیکن بہت دُور کی سیاست اگرلی جائے چند سال بعد ہی کی سیاست لی جائے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا فیصلہ غلط تھا لیکن اِتنی اِن کی بات کی قوت تھی اَور وزن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اَور اُنہوں نے یہ دُعا مانگی ہے یہ دُعا آتی ہے حالات میں جو وہاں لکھے ہیں تاریخ کی کتابوں میں اُن میں یہ لکھا ہے کہ اُنہوں نے دُعا کی یہ کہ اللہ تعالیٰ تو بلال کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں : اُنہوں نے کہا مسئلہ بھی اِسی طرح سے ہے کہ جو کوئی علاقہ فتح ہویا تو وہ فتح کرنے والوں کو دے دیا جائے جیسے خیبر وغیرہ ،دُوسری صورت یہ ہے کہ وہ زمین رہے مرکزی حکومت کی اُس کی آمدنی مرکزی حکومت کی ہو وہاں سے مجاہدین کے وظیفے مقرر کر دیے جائیں اَب یہ وظیفے جو مقرر ہوں گے اِس کو فرماتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اَتْرُکُھَا خِزَانَةً لَّہُمْ میں یہ اِن کے لیے خزانہ بنا کر چھوڑ کے جانا چاہتا ہوں، تو یہ صورت ہو