Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010

اكستان

11 - 64
چھپا ہے خدام الدین میں بھی چھپا ہے وہ مضمون اَور اُس کی تحریر اَور تحریر کا ترجمہ سب کے فوٹووہ چیزیں چھپیں ہیں تو اِن لوگوں کو کوئی خبر نہیں ہوتی۔
اِن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا  :
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ (حضرت بلال) اِتنے بڑے درجہ کے شمار ہوتے تھے کہ جب شام کے علاقے میں لڑائیاں ہو رہی تھیں جہاد ہو رہا تھا فتوحات ہو رہی تھیںتوحضرت بلال حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہمااَور بلال آگے آگے تھے یہ کہتے تھے کہ جو علاقہ مسلمانوں نے جہاد کے ذریعہ سے فتح کیا ہے وہ بانٹ دیا جائے مجاہدین کو دے دیا جائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اِس سے بہت اِختلاف تھاوہ فرماتے تھے کہ اگر مجاہدین کو میں دے دیتا ہوں تو یہ پینتیس ہزار پچاس ہزار ساٹھ ہزار ہیں اگر یہ علاقہ اِن کو دے دیا جائے تو باقی کا کیا ہو گا یہ تو سب کے سب نواب ہو جائیں گے بڑے بڑے زمیندار ہو جائیں گے تو باقیوں کا کیسے ہو گا یہ میں نہیں کروں گا یہ یہ کہتے تھے کہ ایسے ہی کریںاَڑے ہوئے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی  :
 حضرت عمر  دُعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بلال کے بارے میں بلال کے مقابلے میں تو میری مدد فرمامسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی ٹھیک یہ بھی ٹھیک لیکن بہت دُور کی سیاست اگرلی جائے چند سال بعد ہی کی سیاست لی جائے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا فیصلہ غلط تھا لیکن اِتنی اِن کی بات کی قوت تھی اَور وزن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اَور اُنہوں نے یہ دُعا مانگی ہے یہ دُعا آتی ہے حالات میں جو وہاں لکھے ہیں تاریخ کی کتابوں میں اُن میں یہ لکھا ہے کہ اُنہوں نے دُعا کی یہ کہ اللہ تعالیٰ تو بلال کے مقابلے میں میری مدد فرما۔
فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں  :
اُنہوں نے کہا مسئلہ بھی اِسی طرح سے ہے کہ جو کوئی علاقہ فتح ہویا تو وہ فتح کرنے والوں کو دے دیا جائے جیسے خیبر وغیرہ ،دُوسری صورت یہ ہے کہ وہ زمین رہے مرکزی حکومت کی اُس کی آمدنی مرکزی حکومت کی ہو وہاں سے مجاہدین کے وظیفے مقرر کر دیے جائیں اَب یہ وظیفے جو مقرر ہوں گے اِس کو فرماتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ  اَتْرُکُھَا خِزَانَةً لَّہُمْ  میں یہ اِن کے لیے خزانہ بنا کر چھوڑ کے جانا چاہتا ہوں، تو یہ صورت ہو
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درسِ حدیث 5 1
4 چار اَفراد سے محبت کا حکم : 6 3
5 اِسلام لانے کے وقت حضرت سلمان فارسی کی عمر ڈھائی سو برس تھی : 7 3
6 عشرۂ مبشرہ کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے : 7 3
7 خلفائے اَربعہ کے بعد علمی برتری کے اعتبار سے ابن ِ مسعود کا درجہ 7 3
8 اپنے خزانچی اَور مؤذن حضرت بلال کو ہدایت : 8 3
9 حضرت اَبوبکر نے آزاد کیا، حضرت عمر نے بڑے لقب سے نوازا : 8 3
10 عِلم سے کورے ایک آنکھ والے محققین کی شرارتیں اَور اُن کا جواب 9 3
11 پہلا جواب : 9 3
12 دُوسرا جواب : 10 3
13 ایک اَور شرارتی : 10 3
14 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا 11 3
15 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی 11 3
16 فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں 11 3
17 بغیر تنخواہ دار مجاہدین کے لیے دونوں میں سے کوئی سا بھی طریقہ اِختیار کیا جاسکتا ہے 12 3
18 حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ : اعترافِ تقصیر اَور تلافی 12 3
19 سب سے بڑا بیٹا دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ علاقہ کاگورنر 13 3
20 ملفوظات شیخ الاسلام 14 1
21 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 14 20
22 علمی مضامین 19 1
23 قیام ِ پاکستان اَور مسلمانانِ بر ِ صغیر کے لیے علمائِ دیو بند کا بے داغ کردار 19 1
24 پاکستان کا طرز ِ حکومت : 24 1
25 سازشوں کے بعد بچ جانے والا موجودہ پاکستان 33 1
26 تربیت ِ اَولاد 34 1
27 لڑکیوں کے ناک کان چِھدْوانا : 34 26
28 کان ناک چھیدنے کا حکم : 35 26
29 چھوٹے بچوں کو چھیڑ چھاڑ کر نے کا حکم : 35 26
30 اَولادکے واسطے دُعاء : 35 26
31 اَولاد کے نیک ہونے اَور بُری اَولاد سے بچنے کی اہم دعائیں 36 26
32 وفیات 37 1
33 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
34 حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا 38 33
35 قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : 38 33
36 ہجرت : 38 33
37 مدینہ منورہ میں سکونت: 40 33
38 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 33
39 دَانشمندی : 43 33
40 حضرت اُم ِ سلمہ کے بچوں کی پرورِش 48 33
41 صدقہ کرنے کی ہدایت 48 33
42 اَمر بالمعروف : 49 33
43 وفات 49 33
44 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 50 1
45 ماںباپ کا احترام : 50 44
46 گلد ستۂ اَحادیث 52 1
47 جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی 52 46
48 پیٹ میں لقمۂ حرام جانے سے چالیس دِن تک کوئی دُعاء قبول نہیں ہوتی : 53 46
49 دینی مسائل 54 1
50 ( قسم کھانے کا بیان ) 54 49
51 قسم کس طرح ہوتی ہے : 55 49
52 تقریظ وتنقید 57 1
53 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 60 44
54 اَخبار الجامعہ 61 1
Flag Counter