ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
اكستان |
|
اُمت ِمسلمہ کی مائیں قسط : ١٥ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا ( حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب بلند شہری ) حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہاکی وفات کے بعد آنحضرت ۖ نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور اُسی گھر میں اِن کو ٹھہرایا جس میں حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا رہا کرتی تھیں ۔ اُم سلمہ ان کی کنیت ہے ،نام ہند تھا ۔اِن کے باپ اَبو اُمیّہ تھے جن کی سخاوت کا عام شہرہ تھا ،سفر میں اپنے ساتھیوں پر بہت خرچ کیا کرتے تھے اِسی لیے اِن کا لقب زَادُالرَّاکِبِ (مسافروں کے سفر کا سامان ) پڑ گیا تھا ۔والدہ کا نام عاتکہ تھا جو قبیلہ بنی فراس سے تھیں ۔( الاصابہ) قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بھی اُن مبارک ہستیوں میں ہیں جنہوں نے اِسلام کے ابتدائی دور میں ہی اِسلام قبول کیا اِن کا پہلا نکاح چچا زاد بھائی عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا جو آنحضرت ۖ کے رضاعی بھائی بھی تھے اَور پھوپی زادے بھی ۔وہ اِسلام قبول کرنے میں سابقین اَوّلین میں سے تھے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ دس شخصوں کے بعد مسلمان ہوئے یعنی وہ گیارہویں مسلمان تھے، پہلے اِنہوں نے اپنی بیوی حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی وہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ''سلمہ ''رکھا اِسی کے نام سے باپ کی کنیت'' ابوسلمہ'' اَورماں کی کنیت ''اُمِ سلمہ'' مشہورہو گئی ۔پھر حبشہ سے واپس آئے اور اِس کے بعد دونوں نے مدینہ منورہ کو ہجر ت کی لیکن یہ ہجرت ایک ساتھ نہیں ہوئی دونوں آگے پیچھے مدینہ منورہ پہنچے جس کا واقعہ بڑا دَرد ناک ہے۔ ہجرت : حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت کے واقعہ سے اَندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ۖ کے زمانہ میں عورتوں نے کیسی کیسی مصیبتیں دین کے لیے برداشت کی ہیں اور کیسی کیسی تکلیفیں سہی ہیں ۔اِس واقعہ کو وہ