ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
باندھ کر مجھ سے دُور کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے اَور جب کوچ کرنے کا وقت آتا تو اُونٹ پر کجاوہ کس کر میرے پاس لاکر بٹھا دیتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے جب میں سوار ہو جاتی تو اُس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل دیتے اِسی طرح وہ مجھے مدینہ منورہ تک لے گئے جب اُن کی نظر بنی عمرو بن عوف کی آبادی پر پڑی جو قبا میں تھی تو اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارا شوہر یہیں ہے (البدایہ،الاصابہ،اُسد الغابہ) اِس کے بعد وہ سلام کرکے واپس ہو گئے ۔ ١ مدینہ منورہ میں سکونت: مدینہ منورہ پہنچ کر اپنے شوہر کے پاس رہنے لگیں اَور وہاں ایک لڑکا اَور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ لڑکے کا نام عمر اور ایک لڑکی کا نام درہ اور دُوسری کا نام زینب رکھا۔ (الاصابہ) حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات : حضرت اَبو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوہ ٔ اُحد اَور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے ،غزوۂ اُحد میں اُن کے ایک زخم آیا جو کچھ اَچھا ہوگیا تھا۔ اُن کو حضور اقدس ۖ نے ایک دستہ کا اَمیر بنا کر بھیج دیا تھا واپس آئے تو وہ زخم ہرا ہوگیا اَور اُسی کے اَثر سے جمادی الثانی ٤ھ میں وفات پائی۔(الاصابہ) حضرت اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ایک لڑکی تولد ہوئی جس کا نام زینب رکھا گیا اَور اُس کی وِلادت پر عدت بھی ختم ہو گئی ۔عدت گزرجانے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت اُم ِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا تو اُنہوں نے عذر کر دیا، اِس کے بعد آنحضرت ۖ سے نکاح ہوا۔ ( الاصابہ) حرم ِ نبوت میں آنا : حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے پہلے شوہر سے بہت محبت تھی۔ایک مرتبہ حضرت اُم ِسلمہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اگر مرد اَور عورت دونوں جنتی ہوں اَور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اُسی مرد کو ملے گی، اِس لیے آؤ ہم تم دونوں عہد کر لیں کہ ہم میں سے جو ١ عثمان بن طلحہ جنہوں نے حضرت اُم سلمہ کو مدینہ منورہ تک پہنچایا تھااُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے بعد میںاِسلام لے آئے۔