ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
خود اِس طرح ذکر فرماتی تھیں کہ جب ابو سلمہ نے مدینبہ منورہ کو ہجرت کرنے کا اِرادہ کیا تو اُونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اَور سلمہ کو اُونٹ پر بٹھادیا اوراُس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب قبیلہ بنو مغیر ہ کو ہمارے روانہ ہو جانے کی خبر ہو گئی جومیرے میکہ و الے تھے تو اُنہوں نے ابوسلمہ سے کہا کہ تم اپنی ذات کے بارے میں خودمختار ہو مگر ہم اپنی لڑکی کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے جسے تم شہر در شہر لیے پھرو ،یہ کہہ کر اُونٹ کی نکیل اُن کے ہاتھ سے چھین لی اَور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے آئے۔ جب اِس واقعہ کی خبر ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو عبدالاسد کو لگی جو میرے سسرال والے تھے تو میرے میکے والوں سے جھگڑنے لگے اور کہا تم اپنی لڑکی کے مختار ہو ہمارے بچہ سلمہ کو ہمارے حوالے کرو جب تم نے اپنی لڑکی کو اُس کے خاوند کے ساتھ نہ جانے دیا توہم اپنے بچہ کو تمہارے پاس کیوں چھوڑیں ،یہ کہہ کر وہ سلمہ کو چھین کر لے گئے ۔اَب میں اَور میرا شوہر اور بچہ تینوں علیحدہ علیحدہ ہوگئے ۔ حضرت اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ تومدینہ پہنچ گئے اَور قبا میں جا کرقیام کر لیا اَورمیں اپنے میکہ میںرہ گئی اور بچہ دَادھیال میں پہنچ گیا ۔مجھے اِس کا اِس قدر صدمہ ہواکہ روزانہ آبادی سے باہرجاتی اور شام تک رویا کرتی اِسی طرح ایک سال گزر گیا،نہ خاوند کے پاس جا سکی نہ بچہ مل سکا ۔ ایک روز میرے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ پر ترس کھا کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اِس بیکس پر کیوں رحم نہیں کرتے اِسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اِ س کو بچہ اَور خاوند سے کیوں جدا کر رکھا ہے ؟ غرض کہ اُس نے کہہ سن کر مجھے خاندان والوں سے اِجازت دِلادی کہ تو اپنے خاوند کے پاس جا سکتی ہے جب اِس کی خبر بچہ کے دَدھیال والوں کو لگی تو اُنہوں نے بچہ بھی مجھے دے دیا۔ اَب میں نے تنہا ہی سفر کا اِرادہ کیا اَور ایک اُونٹ تیار کرکے بچہ ساتھ لیا اَور تنہا سوار ہو کر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو گئی، تین چار میل چلی تھی کہ مقام تیغم میں عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہو گئی۔ اُنہوں نے پوچھا تنہا کہاں جاتی ہو ؟ میں نے کہا اپنے شوہر کے پاس مدینہ جا رہی ہوں ،دو بارہ سوال کیا کوئی ساتھ بھی ہے ؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہے اور یہ بچہ ہے ۔یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے میر ے اُونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چل دیے ،خدا کی قسم میں نے عثمان سے زیادہ شریف آدمی عرب والوںمیں سے کوئی نہیں دیکھا۔ جب منزل پراُترنا ہوتا تو وہ اُونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اُونٹ کو