Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010

¾اكستان Ù

39 - 64
خود اِس طرح ذکر فرماتی تھیں کہ جب ابو سلمہ   نے مدینبہ منورہ کو ہجرت کرنے کا اِرادہ کیا تو اُونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اَور سلمہ   کو اُونٹ پر بٹھادیا اوراُس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب قبیلہ بنو مغیر ہ کو ہمارے روانہ  ہو جانے کی خبر ہو گئی جومیرے میکہ و الے تھے تو اُنہوں نے ابوسلمہ  سے کہا کہ تم اپنی ذات کے بارے میں خودمختار ہو مگر ہم اپنی لڑکی کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے جسے تم شہر در شہر لیے پھرو ،یہ کہہ کر اُونٹ کی نکیل اُن کے ہاتھ سے چھین لی اَور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے آئے۔ جب اِس واقعہ کی خبر ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو عبدالاسد کو لگی جو میرے سسرال والے تھے تو میرے میکے والوں سے جھگڑنے لگے اور کہا تم اپنی  لڑکی کے مختار ہو ہمارے بچہ سلمہ  کو ہمارے حوالے کرو جب تم نے اپنی لڑکی کو اُس کے خاوند کے ساتھ نہ جانے دیا توہم اپنے بچہ کو تمہارے پاس کیوں چھوڑیں ،یہ کہہ کر وہ سلمہ  کو چھین کر لے گئے ۔اَب میں اَور میرا شوہر اور بچہ تینوں علیحدہ علیحدہ ہوگئے ۔
حضرت اَبوسلمہ رضی اللہ عنہ تومدینہ پہنچ گئے اَور قبا میں جا کرقیام کر لیا اَورمیں اپنے میکہ میںرہ گئی اور بچہ دَادھیال میں پہنچ گیا ۔مجھے اِس کا اِس قدر صدمہ ہواکہ روزانہ آبادی سے باہرجاتی اور شام تک رویا کرتی  اِسی طرح ایک سال گزر گیا،نہ خاوند کے پاس جا سکی نہ بچہ مل سکا ۔ ایک روز میرے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ پر ترس کھا کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اِس بیکس پر کیوں رحم نہیں کرتے اِسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اِ س کو بچہ اَور خاوند سے کیوں جدا کر رکھا ہے ؟ غرض کہ اُس نے کہہ سن کر مجھے خاندان والوں سے اِجازت دِلادی کہ تو اپنے خاوند کے پاس جا سکتی ہے جب اِس کی خبر بچہ کے دَدھیال والوں کو لگی تو اُنہوں نے بچہ بھی مجھے دے دیا۔ اَب میں نے تنہا ہی سفر کا اِرادہ کیا اَور ایک اُونٹ تیار کرکے بچہ ساتھ لیا اَور تنہا  سوار ہو کر مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو گئی، تین چار میل چلی تھی کہ مقام تیغم میں عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہو گئی۔ اُنہوں نے پوچھا تنہا کہاں جاتی ہو ؟ میں نے کہا اپنے شوہر کے پاس مدینہ جا رہی ہوں ،دو بارہ سوال کیا کوئی ساتھ بھی ہے ؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہے اور یہ بچہ ہے ۔یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے میر ے اُونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چل دیے ،خدا کی قسم میں نے عثمان سے زیادہ شریف آدمی عرب والوںمیں سے کوئی نہیں دیکھا۔  
جب منزل پراُترنا ہوتا تو وہ اُونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اُونٹ کو
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درسِ حدیث 5 1
4 چار اَفراد سے محبت کا حکم : 6 3
5 اِسلام لانے کے وقت حضرت سلمان فارسی کی عمر ڈھائی سو برس تھی : 7 3
6 عشرۂ مبشرہ کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے : 7 3
7 خلفائے اَربعہ کے بعد علمی برتری کے اعتبار سے ابن ِ مسعود کا درجہ 7 3
8 اپنے خزانچی اَور مؤذن حضرت بلال کو ہدایت : 8 3
9 حضرت اَبوبکر نے آزاد کیا، حضرت عمر نے بڑے لقب سے نوازا : 8 3
10 عِلم سے کورے ایک آنکھ والے محققین کی شرارتیں اَور اُن کا جواب 9 3
11 پہلا جواب : 9 3
12 دُوسرا جواب : 10 3
13 ایک اَور شرارتی : 10 3
14 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے دینے بلکہ اختلافِ رائے کا بھی حق دیا 11 3
15 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معاشی بصیرت اَور سیاسی دُور اَندیشی 11 3
16 فاتحین کو بھی ملے اَور بعد والے بھی محروم نہ رہیں 11 3
17 بغیر تنخواہ دار مجاہدین کے لیے دونوں میں سے کوئی سا بھی طریقہ اِختیار کیا جاسکتا ہے 12 3
18 حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ : اعترافِ تقصیر اَور تلافی 12 3
19 سب سے بڑا بیٹا دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ علاقہ کاگورنر 13 3
20 ملفوظات شیخ الاسلام 14 1
21 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 14 20
22 علمی مضامین 19 1
23 قیام ِ پاکستان اَور مسلمانانِ بر ِ صغیر کے لیے علمائِ دیو بند کا بے داغ کردار 19 1
24 پاکستان کا طرز ِ حکومت : 24 1
25 سازشوں کے بعد بچ جانے والا موجودہ پاکستان 33 1
26 تربیت ِ اَولاد 34 1
27 لڑکیوں کے ناک کان چِھدْوانا : 34 26
28 کان ناک چھیدنے کا حکم : 35 26
29 چھوٹے بچوں کو چھیڑ چھاڑ کر نے کا حکم : 35 26
30 اَولادکے واسطے دُعاء : 35 26
31 اَولاد کے نیک ہونے اَور بُری اَولاد سے بچنے کی اہم دعائیں 36 26
32 وفیات 37 1
33 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 38 1
34 حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا 38 33
35 قبولِ اِسلام اَور نکاحِ اَوّل : 38 33
36 ہجرت : 38 33
37 مدینہ منورہ میں سکونت: 40 33
38 حرم ِ نبوت میں آنا : 40 33
39 دَانشمندی : 43 33
40 حضرت اُم ِ سلمہ کے بچوں کی پرورِش 48 33
41 صدقہ کرنے کی ہدایت 48 33
42 اَمر بالمعروف : 49 33
43 وفات 49 33
44 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 50 1
45 ماںباپ کا احترام : 50 44
46 گلد ستۂ اَحادیث 52 1
47 جو شخص شراب کا نشہ کرتا ہے چالیس دِن تک اُس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی 52 46
48 پیٹ میں لقمۂ حرام جانے سے چالیس دِن تک کوئی دُعاء قبول نہیں ہوتی : 53 46
49 دینی مسائل 54 1
50 ( قسم کھانے کا بیان ) 54 49
51 قسم کس طرح ہوتی ہے : 55 49
52 تقریظ وتنقید 57 1
53 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 60 44
54 اَخبار الجامعہ 61 1
Flag Counter