ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
چوہدری رازق الحیدر چیرمین ڈسٹرکٹ بورڈ نواکھالی کے دولت کدہ پر قیام ہوا۔ دُوسرے دِن ایک عظیم الشان جلسہ میں انتخابی تقریر کرنی تھی۔ نماز ِ عشاء کے بعد ١١ بجے طعام تناول کیا اَور تقریبًا ١٢ بجے سونے کی غرض سے آرام فرمانے لگے۔ راقم الحروف پاؤں دباتا رہا۔ کچھ دیر بعد آپ کو نیند آگئی اَور ہم لوگ دُوسرے کمرے میں بعض ضروری کاموں کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ تقریبًا دو بجے شب کو راقم الحروف اَور چوہدری محمد مصطفی (ریٹائرڈ) اِنسپکٹر مدارس کو طلب فرمایا ہم دونوں فورًاحاضر خدمت ہوئے۔ اِرشاد فرمایا کہ : لوبھئی! اصحاب ِ باطن نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا اَور ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ بنگال و پنجاب کو بھی تقسیم کردیا۔ یہ سن کر راقم الحروف نے عرض کیا کہ اَب ہم لوگ جو تقسیم کے مخالف ہیں کیا کریں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم ظاہر کے پابند ہیں اَور جس بات کو حق سمجھتے ہیں اُس کی تبلیغ پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔ دُوسرے دِن گوپالپور کے عظیم الشان جلسہ میں تقسیم کی مضرتوں پر معرکة الاراء اَور تاریخی تقریر فرمائی اَور ایک سال چار ماہ بعد ٣ جون ١٩٤٧ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن گورنر جنرل ہند کے غیر متوقع اعلان سے اِس پیشین گوئی کی حرف بحرف تصدیق ہوگئی۔ (مولانا رشید احمد صاحب صدیقی، کلکتہ ، واقعات ص ٤٦) اِس سے صاف واضح ہورہا ہے کہ دیانتًا آپ کی رائے میں مسلمانوں کے لیے فلاحی فارمولا یہی تھا اَور آپ اِس کے لیے کوشش عقلاً و دیانتًا ضروری سمجھتے ہیں۔ خدا نخواستہ کسی بھی قسم کی سخن پروری یانفسانیت کا اِس میں شائبہ نہ تھا۔ اِسی طرح آپ سے پاکستان کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : ''مسجد جب تک نہ بنے اِختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن جب وہ بن گئی تو مسجد ہے۔'' (الجمعیة کا مذکورہ شیخ الاسلام نمبر ص ٧١ کالم نمبر١) لہٰذا اَب ہمارے لیے مملکت ِ پاکستان ''مسجد'' کا حکم رکھتی ہے اِس کی بقاء اَور استحکام کی کوشش حضرت مولانا السیّد حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے اِس اِرشاد کے بموجب ہم سب کا مذہبی فرض ہے۔