ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
سے زائد سامعین تھے اَور جوصاحب چاہیں تھانوی صاحب سے دریافت کر سکتے ہیں۔ آخری دور میں خود علامہ عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ کے خیالات بزبان امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری وغیرہم مایوسانہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے وفات کے قریبی دِنوں میں بہاولپور میں متعدد جملے فرمائے ۔ ''مجھ سے دھوکہ ہوا'' ''میرے ساتھی صحیح کہاکرتے تھے '' ''میں اَپنوں سے دُور ہوگیا ہوں'' پہلے گزر چکا ہے کہ مولانا مدنی کے جیل جانے کے بعد حالات اَیسے ہوگئے تھے کہ علامہ عثمانی دیوبند سے باہر چلے گئے تھے اَور پھر دُور اَور دُوری میں مجبور ہوتے چلے گئے۔ رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔ تنبیہ : ہم نے اِن اَکابر کا یہ فارمولا اِس لیے ذکر کیا ہے کہ اِن کے متعلق جو لوگوں کو غلط فہمیاں ہیں وہ دُور ہوجائیں کہ اِن حضرات نے اپنی دَانست میں اپنی فراست سے دیانتداری کے ساتھ کام لیا تھا ۔ معاذَاللہ بدنیتی کی بد گمانی بھی غلط ہے اَور سیاسی بصیرت کی کمی کا اِنتساب بھی غلط ہے۔ حضرت مدنی رحمةاللہ علیہ کا ایک واقعہ الجمعیة کے شیخ الاسلام نمبر خصوصی شمارہ جلد ٤٣ بروز ہفتہ ٢٥ رجب ١٣٧٧ھ /١٥ فروری ١٩٥٨ء میں ص ١٦٤ کالم نمبر١ سطر نمبر پانچ پر دیا گیا ہے۔ بعد میں وہ ایک اَور کتاب میں جو ١٩٦٥ء میں لکھی گئی ہے طبع ہوا، کتاب کا نام ہے ''حیرت اَنگیز واقعات '' عنوان ہے ''تقسیم ِ ہند کی حتمی پیشین گوئی۔'' اَوائل ١٩٤٦ء میں جنرل الیکشن کی ہنگامہ خیزیوں کا زمانہ تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے اُمیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ہندوستان کا طوفانی دَورہ فرمارہے تھے۔ صوبہ بنگال میں تمام صوبوں کے بعد الیکشن ہوا تھا اِس لیے حضرت شیخ الاسلام اَوائل فروری میں نواکھالی تشریف لے گئے۔ مختلف مقامات پر حضرت کی تقریروں کا پروگرام بنا۔ آپ کے سفر سے متعلقہ اِنتظامات راقم الحروف سے متعلق تھے۔ بہرحال ہمارا قافلہ ٣ مارچ کی شام گوپال پور تھانہ بیگم گنج پہنچا۔ مولانا عبدالحکیم صدیقی، مولانا نافع گل اَور دیگر چار پشاوری طالبعلم ہمراہ تھے۔