ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
نہیں ہیں۔ (٤) وہ حکومت ،حکومت ِ برطانیہ کے زیرِ اَثر ہوگی اَور اگر حکومت مصر کی طرح ہوئی تو ملک تو آزاد نہ ہوگا غلام ہی رہے گا، وہ بھی غیر معینہ عرصہ تک کے لیے۔ بہرحال یہ اُن کے دلائل تھے جو ہمیں پورے تیس سال گزرجانے کے بعد بھی اِن اَکابر کے رسائل میں مل گئے اَور بھی بہت سے رسائل تھے جن میں بحث علمی اَور مفکرانہ اَنداز میں تھی ۔اِن حالات کو وہ خوب سمجھتے تھے ۔ اِس لیے اِن حضرات نے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی کی توجہ اِس طرف مبذول کرائی تھی کہ مسلم لیگ سے باضابطہ طے کر لیں کہ پاکستان میں شرعی نظام ہی نافذ ہوگا۔ کیونکہ اِس میں شامل موثر عنصر مذہب سے واقف نہیں اَور مسلم لیگ یورپین جمہوری نظام کی طرف جارہی ہے۔ مگر اُنہوں نے مسلم لیگ سے طے کرنے کے بجائے ''مکالمة الصدرین'' نامی رسالہ میں مولانا مدنی کو ہی جواب دے دیا ۔ اُنہوں نے حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ جیسے '' اَلْاَلْمَعِیْ '' کی مخلصانہ رائے پر عمل نہ کیا۔ ورنہ وہ اَکابر مسلم لیگ سے صاف طرح طے کر لیتے اَور پاکستان بنتے ہی بجائے نظام ِ اسلامی سے دُوری کے نفاذ ِنظامِ اسلامی عمل میں آتا۔ یہ حضرات مسلم لیگ سے باضابطہ جماعتی طور پر ''نفاذِ نظام ِ اسلامی'' منظور کرانے پر اِس لیے زور دے رہے تھے کہ اُنہیں پہلے تجربہ ہوچکا تھا اَور وہ مسلم لیگ سے اِسلامی نظام کے بارے میں مایوس ہوچکے تھے۔ احتشام الحق صاحب تھانوی مسئلہ رویت ِ حلال کے اختلاف پر ایوب خان کی نظر بندی سے رہا ہوکر آئے تو اُنہیں لاہور اَور راولپنڈی میں شاندار عصرانے دیے گئے۔ دونوں ہی جگہ اُنہوں نے تقریر کرتے ہوئے حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب رحمة اللہ علیہ جنرل سیکرٹری جمعیة علماء ہند کے خلوص و فراست کی تعریف کی اَور اُن کی یہ بات نقل کی جو مولانا نے اُن سے کہی تھی کہ : ''پاکستان تو بڑی بات ہے اگر مجھے یقین ہو کہ فقط ضلع گڑگانوہ جتنی جگہ کا نظام شرعی نافذ کرنے کے لیے مطالبہ کیا جارہا ہے تو میں اِس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کرنے کے لیے تیار ہوں۔'' میں بھی اِس استقبالیہ عصرانہ میں موجود تھا۔ یہ مال روڈ پر سابق '' نیڈوز ہوٹل'' میں دیا گیا تھا۔ چھ سو