ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت مدنی تحریر فرماتے ہیںکہ : ''پاکستان کی حکومت یورپین طریقہ پر ڈیموکریسی (جمہوری) حکومت ہوگی جس میں پریسیڈنٹ کیبنٹ اَور لیجلیچر کا تابع محض ہوگا بیشک وہ مسلم لیگی ہوسکتا ہے مگر صرف اُس وقت تک کہ جب لیگ کی پارٹی کے ممبر اکثریت میں ہوں اَور ہاؤس کی اَکثریت اُس کو منتخب کرے اَور اگر کوئی مخلوط پارٹی اکثریت میں آگئی اَور اُس نے غیر مسلم کو منتخب کردیا تو مسلمان پریسیڈنٹ بھی نہ ہوگا۔'' (پاکستان کیا ہے ص ١٦ حصہ دوم) قائد اعظم نے ٢٩ فروری ١٩٤٤ء کو نیوز کرانیکل لندن کی دعوت پر پاکستان کے مسئلہ میں جو بیان دیا تھا حضرت مدنی نے وہ بھی نقل فرمایا ہے اُنہوں نے کہا : ُُ''اگر برطانوی حکومت ملک کے دوٹکڑے کردے تو تھوڑے عرصہ کے بعد جو تین ماہ سے زیادہ نہ ہوگا ہندو لیڈر خاموش ہوجائیں گے۔ اَور جب تک دونوں ٹکڑے آپس میں امن سے نہ رہیں تب تک برطانوی حکومت کا فوجی اَور خارجی کنٹرول ضروری ہے اِس صورت میں مصر کی طرح کم اَزکم ہم اَندرونی طور پر تو آزاد ہوں گے۔ آج بھی اصولاً پانج صوبوں میں پاکستانی حکومتیں مسلم لیگ کے ماتحت قائم ہیں اَور ہندو وزیر اُن میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی قائمی میں ٤/٣ ملک ہندووں کے زیرِ اثر ہوگا اَور٤/١ مسلمانوں کے، نیز پاکستان کے قائم ہونے سے دائمی امن کی اُمید ہے۔ (مدینہ بجنوز ١٧ جلد ٣٣ مورخہ ٥ مارچ ١٩٤٤ئ) ۔ (پاکستان کیا ہے ص٢٢ حصہ اوّل ) حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ نے اِن تحریرات و تقاریر وغیرہ سے اِستدلال کر کے یہ بیان فرمایا ہے کہ : (١) پاکستان بنانے کے لیے تقسیم کے اصول معین نہیں کیے گئے۔ (٢) پاکستان میں جب یورپین طرز کی جمہوری حکومت ہوگی تو خود مسلم لیگ کی حکومت بھی ختم ہو کر کسی دُوسری پارٹی کی حکومت آسکتی ہے۔ (٣) ذمہ دار حضرات وہاںسرے سے مذہبی حکومت قائم کرنے کے حق میں ہی