ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
دُور کا واسطہ بھی ہے اُن سے مسٹر جناح کو ہر گز اِتفاق نہیں۔ '' ڈان ٩ ستمبر ١٩٤٥ء لکھتاہے کہ : ''مسٹر جناح نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دُنیاوی اسٹیٹ قرار دیا ہے اَور اِس خیال کی ہمیشہ سختی سے مخالفت کی ہے کہ اِس میں مسلمانوں کی حکومت اِلٰہیہ قائم ہوگی۔ جولوگ پاکستان کو پان اِسلام اِزم (اتحاد ِاسلامی) کے مترادف قرار دیتے ہیں وہ اِتحاد کے دُشمن ہیں۔'' مدینہ بجنوز مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٤ء نمبر٩٤ جلد نمبر ٣٣ لکھتا ہے کہ اَخبار ''ایمان'' نے مسلم لیگ کے ترجمان ڈان کے ایک مراسلہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : ''پاکستان میں مذہبی حکومت یا مسلم راج نہ ہوں گے کیونکہ مذہبی حکومت صرف وہاں قائم ہوسکتی ہے جہاں ایک ہی مذہب کے سوفیصدی لوگ ہوں یا اِتنی فوجی طاقت ہو کہ وہ غیر مذہب والوں کو مجبور کرکے مطیع کر سکے۔'' پھر یہی صاحب فرماتے ہیں کہ : ''اگر پاکستان میں مذہبی حکومت بنادی گئی تو اِس سے عوام کی ترقی رُک جائے گی طبقات کی تفریق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اِنسان کی اجتماعی اَور اقتصادی نجات کی راہ بند ہو جائے گی مذہبی حکومت کے پیشرو مسلمان ہوں گے اَور وہ قابل نہیں ہیں، ہندو صوبوں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونے لگیں گے اِس سے ہندوستان میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اُٹھے گی۔'' ''پاکستان کیا ہے'' حصہ دوم اَز ص ٢ تا ص ١٢ بقلم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی صدر جمعیة علمائِ ہند و صدر کُل ہند مسلم پارلیمنٹری بورڈ ناشر ناظم جمعیة علمائِ ہند دہلی