ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
''پاکستان کی حکومت (یورپین) جمہوریت کے طریقہ پر ہوگی۔ ہندو اَور مسلمان آبادی اَور مردم شماری کی حیثیت سے رائے شماری کر کے فیصلہ صادر کریں گے اَور وَزارتوں اَور لیجیلیچر میں سب حصہ دار ہوں گے۔(شہباز لاہور مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٤٥ء بحوالہ ڈان) ٨ نومبر ١٩٤٥ ء کو بمبئی میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کو بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح نے فرمایا کہ : ''پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی مجھے اُمید ہے کہ پاکستان کی بڑی بڑی صنعتیں اَور کارخانے سوشلسٹ اصول پر قوم کے قبضہ میں دیے جائیں گے۔ (منشور ١١ نومبر ٤٥ء ص ٣ کالم نمبر ٢) ۔(انجام ١٢ نومبر ٤٥ء ص ١ کالم نمبر ٤) میاںبشیر احمد صاحب رُکن ورکنگ کمیٹی آل اِنڈیا مسلم لیگ ٢ نومبر ١٩٤٥ء کو لاہور کے جلسۂ عام میں تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ''ہمارے قائد اعظم بار با کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں بِلا لحاظ مذہب عوام کی حکومت ہوگی پاکستان میں ہندوؤں اَور سکھوں کو برابری اَور آزادی جائے گی۔'' علی گڑھ یونیورسٹی میں نواب زادہ لیاقت علی خاں صاحب نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ : ''ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا دستور ِ اساسی کیا ہوگا ،اِس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہوگا اَور اِس کے دستور ِ اساسی کی تشکیل اُن علاقوں کے باشندگان بتوسط ایک منتخب کردہ مجلس دستورِ اساسی خود ہی کریں گے ہر چیز اظہر من الشمس ہے۔'' (عصرِ جدید کلکتہ مورخہ ٢٦ ستمبر ١٩٤٥ء بحوالہ ڈان ٢٥ ستمبر ٤٥ ء ص ٦ کالم ١) شہباز لاہور مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٤٥ء لکھتا ہے کہ لیگ کا ذمہ دار سرکاری ترجمان ڈان لکھتا ہے کہ : ''مسٹرجناح نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کوئی دینی و مذہبی حکومت ہر گز نہ ہوگی بلکہ خالصًا ایک دُنیوی حکومت ہوگی اَور مسلمانوں کی حکومت ِالٰہیہ کے نظریہ سے اِس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو عالمگیر اِسلامی قومیت (پین اِسلام اِزم ) سے کوئی