ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
کہا کہ ''میں کریم اللہ ''۔ پھوپھی صاحبہ نے پوچھا پگڑی تمام ہوگئی یعنی فارغ ہوگئے ہو؟ جواب میں والد صاحب نے کہا کہ نہیں تو پھوپھی صاحبہ نے کہا کہ '' یہیں سے پلٹ جاؤ اور جب تک پگڑی تمام نہ ہو گھر نہ آنا '' چنانچہ والد صاحب وہیں سے پلٹے راستے میں گھر سے فوراً ملائشیا سے آئے ہوئے بھائی نے کچھ گڑ پیاز اورٹھنڈی روٹی لے کر والد صاحب کو پہنچادی اور کچھ پیسے بھی دیے، اِس طرح والد صاحب دوبارہ دیوبند چلے گئے۔جب والد صاحب دارلعلوم دیوبندسے فارغ ہوکر گھر تشریف لے آئے تو پھوپھی صاحبہ بہت خوش ہوئیں اور دیر تک دارلعلوم کی اَسناد کو دیکھتی رہیں۔ اور کیوں خوش نہ ہوتیں جبکہ والد صاحب کی سند پر حضرت مدنی کے یہ مصدقہ کلمات بھی موجود تھے۔ ھوعندنا عالم صالح ذکی ولہ مناسبة بالعلوم العربیة تامة یقدر بھا علی التدریس ۔ قدرت نے پھوپھی صاحبہ کو علماء ِ حق کی حد درجہ محبت عطا کر رکھی تھی چنانچہ اکثر والد صاحب سے کہا کرتی تھیں کہ : ''مولوی کریم اللہ میرا دل چاہتا ہے کہ تیرے پاؤں کا بوسہ لے لوں کیونکہ تیرے یہ پاؤں تحصیل ِ علم میں گرد آلود ہوئے ہیں۔'' لیکن والد صاحب فرماتے تھے کہ ایسا ہر گز نہ ہوگا کیونکہ آپ تو میری ماں ہیں اور آپ ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے علم سے نوازا ہے لیکن پھوپھی صاحبہ کی یہ خواہش بدستور باقی رہی چنانچہ والد صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سحری کے وقت سونے میں مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پاؤں کا بوسہ لے لیا ہو۔جب میں نے سر اُٹھاکر دیکھا تو واقعی پھوپھی صاحبہ نے بوسہ لے ہی لیا تھا۔والد صاحب اکثر اپنی دُعاؤں میں سیٹھ صاحب کو عموماً اور پھوپھی صاحبہ کو خصوصا ًیاد فرماتے تھے۔ حضرت مولانا کریم اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور کے قدیم اساتذہ میں سے تھے اور کثیر تعداد میں خواص وعوام نے اُن سے استفادہ کیا تھا جن میں سے چند مشہور حضرات یہ ہیں : حضرت مولاناڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب، سابق اُستاذ فقہ وحدیث مفتی قاری عبدالرشید صاحب ، مولانا عبدالغنی صاحب خلیفہ مجاز حضرت اَ قدس مولاناسید حامد میاں صاحب ، مولانا خالد محمود صاحب، مولاناسید رشید میاں