ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
ہوگا؟ کیونکہ مرزا صاحب ہی کااِرشاد ہے کہ '' ایک بات میں جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری بات میں اعتبار نہیں رہتا۔ '' (چشمہ معرف ص ٢٢٢، رُوحانی خزائن ج ٣٣ص ٢٣١)۔ سوال ١٥ : مرزا قادیانی تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٢ ص ١٥٩ ، رُوحانی خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣ پر لکھتا ہے : ''اس کے (یعنی مسیح موعود کے ) مرنے کے بعد نوع ِانسان میں علّت عقم سرایت کرے گی یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اَور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہوجائے گی وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اَور نہ حرام کو حرام پس اِن پر قیامت قائم ہوگی۔'' فرمائیے! مرزا قادیانی کے وجود میں ''مسیح موعود '' کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا اُس کے مرنے کے بعد جتنے اِنسان پیدا ہوئے وہ سب وحشی ہیں؟ اور اِنسانیت صفحۂ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال اَور حرام کو حرام سمجھنے والا دُنیا میں موجود نہیں؟ اگرمرزا قادیانی میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیحِ موعود کیسے ہوئے؟ اور اگر پائی گئی ہے تو دُور کے لوگوں کا تو قصّہ جانے دیجئے خود قادیانی جماعت کے بارے میں کیا فتوی ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا اِن میں حقیقی اِنسانیت قطعاً نہیں پائی جاتی؟ اور اِن کو حلال اور حرام کی کچھ تمیز نہیں؟ سوال نمبر ١٦ : مرزا قادیانی مسیح بنے تو اُنہوں نے اپنے گھر میں دجال بھی گھڑ لیا یعنی پادری، یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک یہ کہ پادری تو دُنیا میں پہلے سے موجود تھے بلکہ خود رسول اللہ ۖ کے زمانے سے بھی پہلے اَور اُن کے مشرکانہ عقائد و نظریات بھی پہلے سے چلے آرہے تھے جس پر قرآن کریم گواہ ہے مگر دجال کو تو قتل کرنا تھا جبکہ مرزا صاحب کو مرے ہوئے مکمل ایک صدی ہورہی ہے اَور اُن کا دجال ابھی تک دُنیا میں دَندناتا پھر رہاہے، مسیح ِموعود کی یہ علامت مرزا صاحب پر کیوں صادق نہیںآتی؟ دُوسرے یہ کہ دجال کو دُنیا میں صرف چالیس دن رہنا تھا جیسا کہ اَحادیث ِ صحیحہ میں آتا ہے مگرمرزا قادیانی کے خود ساختہ دجال کا چلّہ ابھی تک پورا ہی ہونے میں نہیں آیا۔ تیسرے یہ کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے :