ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
''میراکام جس کے لیے میں اِس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاوں اَور آنحضرت ۖ کی جلالت اور عظمت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں، پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علّتِ غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دُنیا کیوں مجھ سے دُشمنی کرتی ہے وہ میرے اَنجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں اسلام کی حمایت میں وہ کام کردکھا یا جو مسیح ِموعود اور مہدیِ موعود کو کرنا چا ہیے تو پھر میں سچا ہوں اَور اگر کچھ نہ ہوااَور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔'' (اخبار البدر ١٩جولائی ١٩٠٦ئ) دُنیا گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد دین ِاسلام کو ترقی نہیں ہوئی بلکہ اُن کی کفریات کی و جہ سے تنزل ہی ہواہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک خود اُن کی اپنی جماعت خارج اَز اِسلام ہے، کیا قادیانی صاحبان سب دُنیا کے ساتھ مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیں گے؟ فرمایئے۔ اِن تصریحات کی روشنی میں اَدنیٰ شعور رکھنے والا انسان بھی اِس بات کی گواہی دے گا کہ مرزا اَور مرزائی جماعت کا اِسلام اور اہلِ اِسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اَور دِکھانے کے اَور۔ بہر کیف یہ حق کو واضح کرنے کی ایک اہم کوشش ہے جو پیش ِ خدمت ہے، خود پڑھیے اوربھولے بھالے قادیانیوں کو دیجئے شاید کہ اُن کا یمان بچ جائے ۔وَاللّٰہُ ہَادِیْ اِلٰی سَبِیْلِ الْحَقِّ۔ کیااَب مرزا قادیانیکے جھوٹا ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ جاتاہے؟ وَصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنِ