ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اَور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اِس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے انجیل بھی اِس کی مصدق ہے۔'' (ازالہ اَوہام ص ٥٥٧ مندرجہ رُوحانی خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) مرزا قادیانی کی اِس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی متواتر ہے، اِدھر مرزا کا کہنا یہ ہے کہ : ''میں نے یہ دعوی ہر گز نہیں کیاکہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔''(ازالہ اَوہام ص ١٩٠ ۔ رُوحانی خزائن ج ٣ ص ١٩٢) پس جو لوگ مرزا کو آنحضرت ۖ کی متواتر پیش گوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح ہے تو کیا وہ مفتری اور کذاب ہے یا نہیں؟ سوال ١١ : مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونا آنحضرت ۖ کے اِراشادات کے مطابق ہے یا خلاف؟ اگر مطابق ہے تو برائے مہربانی وہ اَحادیث جن میں مرزا صاحب کی علامات بیان فرمائی گئیں ہیں مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں؟ سوال ١٢ : مرزا قادیانی اَربعین نمبر٣ ص ١٧ مندرجہ رُوحانی خزائن ج ١٧ص ٤٠٤ پر لکھتا ہے : ''لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور اَحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیحِ موعود جب ظاہر ہوگا تو : (i) اِسلامی علمائے کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا۔ (ii) وہ اُس کو کافر قرار دیں گے۔ (iii) اور اُس کے قتل کے فتوے دیے جائیں گے۔ (iv) اور اُس کی سخت توہین کی جائے گی۔ (v) اور اُس کو دائرہ ٔ اِسلام سے خارج ...... اور (vi) دین کا تباہ کر نے ولا خیال کیا جائے گا۔''