ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
اِلہام ہے جو میں نے خدا ئے تعالیٰ سے پاکر براہین ِاحمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعوی ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگادے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل ِمسیح ہوں۔ '' (ازالہ اَوہام ص ١٩٠۔ رُوحانی خزائن ج ٣ ص ١٩٢) سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی آئینہ کمالات ِاسلام میں درج عبارت کی رُو سے خود کہتا ہے کہ خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنادیاہے تو ازالہ اَوہام کی عبارت کی رُو سے خود مفتری اور کذاب ثابت ہوا یا نہیں؟ اور یہ کہ جو لوگ مرزا کو مسیح ِموعود کہتے ہیں، مرزا کے بقول ''کم فہم لوگ '' ہیں یا نہیں؟ سوال ٩ : مرزا بشیر احمد ایم اے سیرة المہدی میں لکھتا ہے : بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پینشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا، جب آپ نے پینشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا، پھرجب اُس نے سارا روپیہ اُڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح ِموعود اِس شرم سے واپس گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشار رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں اِس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔'' (سیرة المہدی ج ١ ص ٤٣، ایڈیشن دوم ) مرزا نے باپ کی پینشن میں خیانت کی، کیا ایسا شخص خدا کی وحی پر اَمین ہوسکتا ہے؟ کیا ایسا شخص جو خائن چور اور بزدل ہو وہ مسیح ہو سکتا ہے؟ سوال ١٠ : مرزا قادیانی ازالہ اَوہام میں لکھتا ہے : ''یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی