ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ کون سی سچ ہے اور کون سی جھوٹ؟ سوال ٧ : مرزا اعجاز ِ احمدی میں لکھتا ہے : ''خدا نے میری نظر کو پھیردیا، میں براہین کی اُس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ورنہ میرے مخالف مجھے بتلادیں کہ میں نے بوجود یکہ براہین ِاحمدیہ میں مسیح موعود بنادیا گیا تھا، بارہ برس تک یہ دعوی کیوں نہ کیا ؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟'' (اعجازِ احمدی ص ٧ رُوحانی خزائن ج ١٩ ص ١١٤) اِس عبارت میں مرزا اِقرار کرتا ہے کہ اُس نے خدا کی وحی کو بارہ برس تک نہیں سمجھا اور خدا کی وحی کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ لکھ د یا۔ اَب سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک وحیِ الٰہی کا مطلب نہ سمجھے اور وحی ِالٰہی کے خلاف بارہ برس تک جھوٹ بکتا رہے، کیا وہ مسیح ِموعود ہوسکتا ہے؟ دُوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا وحیِ الٰہی کے خلاف جھوٹ بکنا اُس کے جھوٹا ہونے کی عظیم الشان دلیل ہے یا مرزا کے بقول اُس کی سچائی کی؟ سوال ٨ : مرزا آئینہ کمالات ِاسلام میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ : ''اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح ِموعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا۔ '' (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١ رُوحانی خزائن ج ٥ ص ٥٥١ ) لیکن اِ س کے برعکس ازالہ اَوہام میں کہتا ہے کہ مسیح ِموعود نہیں بلکہ مثیلِ مسیح ہوں اور یہ کہ جو شخص میری طرف مسیح ابن مریم کا دعوی منسوب کرے وہ مفتری اور کذاب ہے چنانچہ'' علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ'' کے عنوان سے لکھتا ہے : ''اے برادران ِدین وعلمائے شرع ِ متین ! آپ صاحبان میری اِن معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اِس عاجزنے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعوی کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح ِموعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعوی نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا