ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
عیسیٰ علیہ السلام ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اِس میں شریک کررکھا ہے اور اعجازِ احمدی میں کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اِس پیش گوئی میں کوئی حصہ نہیں بلکہ میں (مرزا قادیانی ) ہی اِس کا مصداق ہوں ۔اور لطف یہ کہ دونوں جگہ اپنے الہام کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اِن دونوں میں سے کون سی بات سچی اور کون سی جھوٹی ؟ اور کون سا الہام صحیح ہے اور کون سا غلط؟ سوال ٦ : مرزا قادیانی اعجاز ِ احمدی میں لکھتا ہے : ''پھر میں قریبًا بارہ برس تک جو ایک زمانہ ٔدراز ہے بالکل اِس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا مجھے بڑی شدو مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیاہے اَور میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اِس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ توہی (مرزا قادیانی ) مسیح موعود ہے۔ '' (اعجاز ِاحمدی ص ٧ ۔ رُوحانی خزائن ج ١٩ ص ١١٣) اِس کے برعکس ''آئینہ کمالات ِاسلام '' میں لکھتا ہے : ''و واللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدة اننی جعلت المسیح بن مریم، وانی نازل فی منزلہ، ولٰکن اخفتةہ نظرا الی تاویلہ، بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیھا من المستمکین، وتوقفت فی الاظھار عشر سنین۔ '' (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١ ۔ رُوحانی خزائن ج ٥ ص ٥٥١) ''اور اللہ کی قسم ! میں ایک مدت سے جانتا تھا کہ مجھے مسیح ابن مریم بنادیا گیا ہے اور میں اِس کی جگہ نازل ہوا ہوں لیکن میں نے اِس کو چھپائے رکھا، اِس کی تاویل پر نظر کرتے ہوئے بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا بلکہ اِسی پر قائم رہا اور میں نے دس برس اِس کے اظہار میں توقف کیا۔ '' اِن دونوں بیانوں میں تناقص ہے۔ اعجاز ِ احمدی میں کہتا ہے کہ بارہ برس تک مجھے خبر نہیں تھی کہ خدانے بڑی شدّومد سے مجھے مسیح موعود قرار دیا ہے۔ اور آئینہ کمالاتِ اسلام میںکہتا ہے کہ اللہ کی قسم! میں جانتا تھا کہ مجھے مسیح موعود بنادیا گیا ہے لیکن میں نے اِس کو دس برس تک چھپائے رکھا۔ اِن دونوں باتوں میں سے