ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
قوی روایت ہشام بن عروہ کی ہے۔ ١٢۔ ابن ِماجہ بعد میں تصنیف ہوئی اِس میں پہلے روایت ِ ہشام کو پھر ابو عبیدہ کوفی کی روایت کا ذکر کیا گیا ۔ اور روایت ِ اسود و ابو سلمہ کو ترک کر دیا گیا ۔ یعنی ابن ماجہ نے دو رایوں کی روایت کو قابل ِ استناد خیال کیا۔ پہلی ہشام ابن عروہ کی دُوسری ابو عبیدہ کی۔ پہلی اَصل ہے دُوسری مؤید۔ ابن ماجہ کی وفات ٣٠٣ ھ ہے ۔ ١٣۔ جس طرح یہ روایت صحاح ستہ میں مذکور ہے اِس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اِس روایت کو اُن مصنفین نے خبر ِ واحد کے طورپر لیا اور سب نے روایت ِ ہشام کو اَصل خیال کیا۔ کیونکہ سب نے پہلے اِسے ذکر کیا اور کسی نے ترک نہیں کیا۔ اور بخاری اور ابو داؤد نے صرف روایت ِ ہشام کو ذکر کیا اور کسی روایت کو قبول ہی نہیں کیا۔ ١٤۔ اِن محدثین کے نزدیک روایت ِ ہشام میں تعددہشام سے نیچے ہے۔ اِس سے اُوپر نہیں ہے۔ اِس میں شہرت کی کیفیت بعد میں پیدا ہوئی۔ ١٥۔ کوئی بھی روایت جب جس کسی کتاب میں آجائے تو اُس کے بعد تو وہ متواتر ہوتی ہے۔ اُس کا علم چند لوگوں تک محدود نہیں رہتا سب اہل ِ علم اُسے پڑھتے ہیں۔ ١٦۔ کسی روایت کے کتاب میں آنے سے پہلے اَصل راوی سے مصنف تک روایت کو پرکھا جاتا ہے۔ یعنی جس اَسناد سے وہ روایت کتاب میں مذکور ہوتی ہے ہر سند کے رُواة کو پرکھتے ہیں اور اس اعتبار سے اس پر مشہور، عزیز ،صحیح ، حسن،غریب اَور ضعیف کا حکم لگاتے ہیں۔ ١٧۔ اس اعتبار سے یہ روایت ِہشام اَصل اقوی اور راجح قرارپا ئی ہے۔ اور روایت ِ اسود اور ابوعبیدہ و ابو سلمہ اِس کی مؤید ہیں۔ مندرجہ ذیل وجوہات کی بناپر : (١) بخاری، ابو داؤود اور کتاب الام نے صرف اِسی روایت پر بھروسہ کیا ہے۔ (ب) اِس روایت کو سب نے بیان کیا اور باب میں پہلے ذکر کیا کسی نے ترک نہیں کیا۔ (ج) یہ ظاہر ہے جس روایت کو سب ذکر کریں وہ اَقوی اور راجح ہوگی۔ (د) روایت ِ اسود کو مسلم اور نسائی نے ذکر کیا وہ بھی بطور ِ مؤید کے۔ (ہ) روایت ِ ابو عبیدہ کو صرف نسائی اور ابن ماجہ نے بطور ِ مؤید روایت ِ ہشام کے ذکر کیا