ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
بن عروہ تک پوری سند بیان کردی۔ ٩۔ مسلم کی اِس روایت میں بھی تعددہشام سے نیچے ہے۔ یعنی ہشام کے راوی ایک دُوسرے کے مؤ یدہیں۔ مسلم میںہشام کی اِس روایت میں جو ابو اُسامہ سے منقول ہے، ایک راوی ابوبکر بن ابی شیبہ بھی ہیں۔ یعنی روایت ہشام ابوبکر عن ابی اُسامہ عن ہشام بن عروہ منقول ہے۔ پھر امام مسلم نے دُوسری روایت اَسود عن عائشہ کا ذکر کیا یعنی اَبُوْ مُعَاوِیَةَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ عَنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ کا ذکرکیا۔ اِس روایت میں ابومعاویہ سے نیچے ابوبکر بن شیبہ بھی ہیں یعنی ابو بکر سے ابو اُسامہ کی روایت بھی منقول ہے۔ اور ابومعاویہ عن الاعمش بھی منقول ہے۔ اَب مسلم کے نزدیک حضرت عائشہ سے دوراوی ہیں عروہ اور اَسود،اور کسی روایت کا اُنہوں نے ذکر نہیں کیابلکہ ناقابل ِ اعتبار خیال کرکے ترک کردیا ۔ امام مسلم بھی نسائی اور ابن ماجہ کے ہم عصر ہیں اِن کی روایات امام مسلم کو بھی معلوم ہوں گی مسلم کے نزدیک بھی یہ روایت خبر ِ آحاد میں شامل ہے دوسندوں کے آنے سے روایت مشہور نہیں ہو جاتی۔ ١٠۔ ابن ماجہ نے پہلے روایت ِ ہشام کا ذکر صرف علی بن مسہر کے ذریعہ کیا پھر ابوعبیدہ کی روایت کا ذکر کیا۔ابن ماجہ کے نزدیک حضرت عائشہ سے صرف دوراوی ہیںعروہ اور ابوعبیدہ۔اَسود کی روایت کو اُنہوں نے قابل ِ اعتبار خیال نہیں کیا اِس لیے ذکر ہی نہیں کیا۔ یہ صحاح ستہ کے آخری مصنف ہیں ٣٠٣ھ میں اِن کا انتقال ہوا۔ ١١۔ نسائی نے سب سے پہلے ہشام بن عروہ کی روایت کا ذکر دو واسطوں سے کیا ۔ ابو معاویہ عن ہشام اور جعفر بن سلیمان عن ہشام پھر ابو عبیدہ عن عائشہ پھر الاسود عن عائشہ پھر ابو سلمہ عن عائشہ۔ یعنی نسائی کے نزدیک چار راوی ہوگئے : عروہ، ابو عبیدہ، اسود اور ابو سلمہ۔ صحاح ستہ میں صرف یہ ایک مصنف ہیں جنہوں نے حضرت عائشہ سے چار راویوں کے سماع کی روایت بیان کی ہے صرف ایک مصنف کے اِس بیان سے یہ روایت شہرت کے درجہ کو نہیں پہنچ جاتی۔ روایت ابو سلمہ کو صحاح ستہ میں صرف نسائی نے ذکر کیا اَور وہ بھی بطور ِ مؤید روایت ہشام۔ یعنی ١٧٣ ھ میں اہل ِ علم کے علم میں یہ بات آئی کہ حضرت عائشہ سے اِس روایت کے چار راوی ہیں۔ اور اُن میں