ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
(و) روایت ِ ابو سلمہ کو صرف نسائی نے بطور ِ مؤید کے ذکر کیا۔ (ز) روایت ِ ہشام نے صحاح میں درج ہونے تک شہرت حاصل کرلی تھی۔ صحاح خمسہ میں یہ روایت ِہشام براہ ِراست اُن کے ١٣ تلامیذ سے منقول ہے۔ (ح) روایت ِ اسود اَسود سے معاویہ تک واحد عن واحد ہے۔ روایت ِ ابوعبیدہ ابوعبیدہ سے ابن ماجہ تک واحد عن واحد ہے۔ اِسی طرح نسائی تک واحد عن واحد ہے۔ اور روایت ِ ابو سلمہ نسائی تک واحد عن واحد ہے۔ ابوسلمہ سے نسائی تک ٦ راوی ہیں ،یہ سند ویسے بھی مجروح ہے۔ ١٨۔ آپ نے اَصل اور متابع کے سلسلے میں لکھا ہے کہ '' ابو بکر نے مصنف میں صرف ابو معاویہ کی روایت کو لیا ہے اُن کے نزدیک یہی اَصل ہے اِس کی تائید اسرائیل عن الا عمش سے ہوتی ۔'' اِس کے متعلق یہ عرض ہے کہ ہم نے اپنے استنادکو صحاح ستہ تک محدود رکھا ہے۔ اِس لیے یہ استدلال ہم پر لاگو نہیں ہے مگر بحث کو پورا کرنے کے لیے ہم تسلیم کر لیتے ہیں۔ ہم پہلے نقل کر چکے ہیں کہ ابو بکر بن شیبہ روایت ِ ہشام کے راوی ہیں جیسا کہ مسلم میں ہے اور روایت ِابو معاویہ عن الا عمش الی اسود کے بھی راوی ہیں یہ بھی مسلم میں ہے۔ اور مسلم نے پہلے ابو بکر کی ہشام والی روایت درج کی ہے جو علامت ِ اقوی ہے اور تائید میں ابو بکر کی اسود والی روایت درج کی ہے۔ مسلم نے خود ابو بکر کی دونوں روایتوں میں فرق کردیا ہے۔ نیز نسائی نے ابو بکر کے شیخ ابو معاویہ سے ہشام بن عروہ کی روایت کو اپنی کتاب میں پہلے نقل کیا ہے پھر تائید میں ابو معاویہ ہی سے ابو معاویہ عن الا عمش الی اسود والی روایت بیان کی ہے۔ نسائی نے بھی اَسودکی روایت کو تائیدی درجہ دیا ہے۔ ١٩۔ اِس بیان کی روشنی میں ابو بکر کا اپنا انتخاب دُوسرے درجے کی روایت کا انتخاب ہے۔ چونکہ ابوبکر کے طبقۂ عاشرہ میں بلکہ اُن کے شیخ ابو معاویہ کے طبقۂ ثانیہ میں روایت ِ ہشام مشہور ہوچکی تھی اِس لیے اِس روایت کو اَب کسی دُوسرے درجے کی سند سے لے آنا بھی کافی تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنی انفرادیت کو ظاہر کرنے کے لیے صرف اسود کی روایت ابو معاویہ عن الا عمش کو کافی خیال کیا۔ بایں ہمہ صحاح خمسہ کو مصنف پر ترجیح حاصل ہے اور یہ مسلمات میں سے ہے۔ نیز ابومعاویہ عن الاسود سند سافل ہے