ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2009 |
¾اكستان Ù |
|
خبر متواتر تو ہے نہیں۔ متواتر میں تو شروع ہی سے بیان کرنے والوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا، بھول جانا، دھوکہ دینا مستبعد ہوتا ہے۔ اِس روایت کی یہ شان نہیں ہے۔ اِس کے بعد پھر مشہور، عزیز وغیرہ آحادہی کی اقسام ہیں۔ ہم نے کتب ِ صحاح ستہ میں اس روایت کو تلاش کیا تو ترمذی میں یہ روایت مذکور ہی نہیں ہے۔ حالانکہ ترمذی کتاب المذاہب ہے۔ گویا اُنہوں نے سرے سے اِس روایت کوقابل ِاعتبار خیال نہیں کیا یا اُن کے نزدیک اِس میں کوئی علت ِ خفیہ قادحہ ایسی تھی جو اِس روایت کو قبول کرنے سے مانع تھی۔ ٦۔ پھر ہم نے بخاری کو دیکھا اِس میں یہ روایت ہشام بن عروہ سے منقول ہے بخاری نے اِس روایت ِ ہشام کو چار روایوں کے واسطے سے بیان کیا ۔ علی بن مسہر سے، ابو اُسامہ سے ،سفیان سے، وہب سے یعنی روایت میں تعدد ہشام سے نیچے ہے۔ یعنی ہشام کے تلامیذ ایک دُوسرے کے مؤید ہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ بخاری کے نزدیک یہی قوی اور اَصل روایت ہے۔ بذات ِخود یہ سند ثبوت ِ روایت کے لیے کافی ہے۔ بخاری نے اَور روایات کو ترک کردیا کیونکہ اُن کے نزدیک اِن میں ضرور کوئی خرابی ہوگی جو روایت کو قبول کرنے میں مانع تھی۔ امام بخاری نے چھ لاکھ اَحادیث میں سے اپنی کتاب میں درج کرنے کے لیے اِس روایت کا انتخاب کیا۔ روایت ِ اسود ،روایت ِ ابو عبیدہ وغیرہ ضرور اُنہیں پہنچی ہوںگی۔ کیونکہ صحاح ستہ کے مصنفین تمام ہم عصر ہیں جب اَوروں نے دُوسری روایتیں درج کی ہیں تو ضرور امام بخاری کوبھی یہ روایات پہنچی ہوںگی۔ پھر مسلم نے بھی اِس باب میں پہلے ہشام بن عروہ کا ذکر کیا ہے مندرجہ ذیل رُواة کے ذریعہ اَبُوْ اُسَامَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ اَبِیْ مُعَاوِیَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ نُمَےْرٍ عَنْ ہِشَامٍ پھر عَبْدَہْ عَنْ ہِشَامٍ ۔ ٧۔ پھر ابوداؤد نے بھی صرف ہشام بن عروہ کی روایت کا ذکر کیا۔ حماد بن زید کے ذریعہ، اور اُس باب میں روایت ِ ہشام کو کافی خیال کیا۔ ٨۔ کتاب الام میں امام شافعی نے ہشام بن عروہ کی روایت کو لیا سفیان بن عیینہ کے ذریعہ۔ اِن تینوں نے ہشام ہی کو اَصل خیال کیااور قبول کیااور خبر ِ واحد سمجھ کر قبول کیا۔ کیونکہ اُن کے نزدیک تو اِس سند کے سوا اَور کسی سند سے یہ روایت ثابت ہی نہیں اور ہر مصنف نے اپنی ذات سے اُوپر ہشام