ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
اكستان |
|
کھانا کس طرح کھاتے تھے ان کی نشست اور بیٹھنے کا انداز کیا ہوتاتھا کچھ پڑھتے تھے یا نہیں پڑھتے تھے کتنی اُنگلیوں سے کھاتے تھے کیا مرغوب تھا کھانے میں ۔وہ سوتے تھے تو کس طرح سوتے تھے کچھ پڑھتے تھے کیا ہیئت ہوتی تھی ۔پیتے تھے کس طرح کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر، کچھ پڑھتے تھے۔ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیںکہ عیسیٰ علیہ السلام Godتھے خدا سے دُعا مانگتے تھے اور اتنی بات ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں جوالفاظ اُن کی دُعا کے آپ نقل کریں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اُن کی سند نہیں پہنچتی ۔یہ بعد میں لوگوں نے لکھ لیے ہیںگڑھ لیے ہیں بنا لیے ہیں لیکن میں جس نبی پر ایمان لایا ہوں اور جن کو اپنا آئیڈیل اور اُسوۂ اور نمونہ بنایا ہے زندگی کے لیے، اُن کی ہر بات میرے سامنے کھلی ہوئی کتاب کی طرح عیاں ہے ۔میں نے کہا دیکھئے میں سات آٹھ سال کا ایک بچہ تھا اس وقت بچہ کو دنیا کی کچھ سوجھ بوجھ آجاتی ہے تو اس کے بعد سے میں اپنے والد کے ساتھ بیس سال رہا اور میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتاہوں میں ا پنے والد کو اتنا نہیں جانتا جتنا اپنے آقا سرور دو عالم ۖ کو جانتاہوں۔ میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ آپ لباس کس طرح پہنتے تھے کون کون سالباس آپ نے زندگی میںپہنا ۔ میں بتا سکتا ہوں کہ آپ کھانے کے لیے کس طرح بیٹھتے تھے کتنی اُنگلیاں استعمال کرتے تھے کیا مرغوب تھا کیا پڑھتے تھے کیا گفتگو ہوتی تھی ہر ایک چیز کے بارے میں ۔یہاں تک کہ جو باتیں انسان کی پرائیویٹ اور نجی ہوتی ہیں اور عام طورپر انسان اُن باتوں پر توجہ نہیں دیتا لیکن میں وہ بھی بتا سکتاہوں کہ آپ آدھی رات کے بعد اور تہائی رات کے بعد اور آخری حصہ میں خدا سے کیا باتیں کیا کرتے تھے،آپ اپنی بیویوں سے رات کے اندھیرے میں کیا سرگوشی کیا کرتے تھے وہ بھی بتا سکتا ہوں ۔انسان جب کوئی آئیڈیل بنائے گا نمونہ بنائے گا تو اُس وقت بنائے گا کہ جب اُس کی ہر چیز سامنے ہو جس پر وہ چل سکے۔ میں نے ایک بات یہ بھی کہی کہ دیکھئے میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوںکہ میرے آقا سرورِ ددوعالم ۖ کی ریشِ مبارک ڈاڑھی کے کتنے بال سفید تھے میں نے کہا دنیا میں کوئی انسان اپنے باپ کے بارے میں بتا سکتا ہے کہ اس کی ڈاڑھی کے کتنے بال سفید ہیں؟تو میں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ۖ کے درمیان سچے اور جھوٹے ہونے کا یا صحیح اور غلط ہونے کا فرق نہیں ہے بلکہ فرق یہ ہے کہ ان کی تعلیمات ایک محدود وقت کے لیے تھیں اُس کے بعد ختم ہوگئیں ان کی سیرت بھی محفوظ نہیں رہی اور نبی علیہ السلام کی سیرت اور تعلیمات قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے محفوظ رکھنے کا انتظام کردیا ۔ تو جس نعمت کو آپ یہاں پر حاصل کررہے ہیں قرآن کو اور حدیث کو اور علوم ِ اسلامیہ کو یہ وہ نعمت ہے جس کی پوری انسانیت کو ضرورت ہے۔ ہم حضور ۖ کی زندگی کو دیکھیں کہ آپ کی زندگی کیا تھی، پہلی وحی جب آپ پر اُتری ہے اور آپ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور گھر میں آکر آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرمایا زمّلونی چادر اُوڑھادو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میری جان نہ نکل جائے تو حضرت خدیجہ نے جن الفاظ میں آپ کو تسلی دی کہ آپ تو بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں یتیموں کے کام آتے ہیں ضرورت مندوںکی ضرورت