ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
آئینی نظام ملک کی معیشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتا ہے لیکن اسلامی نظام کا نفاذ صرف علمائے دین کی جدوجہد کے ذریعے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے اس کے لیے نوجوان طبقے کی ضرورت ہے جو اسلامی جذبہ سے سرشار ہوں اور ان میں بے خوف اور بے لوث قیادت موجود ہو اور اگر خدانخواستہ ہم ایسی قیادت مہیا کرنے سے قاصر رہے تو پھر اسلامی نظام کا نفاذ ایک ایسا خواب رہے گا جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ آپ سے اب صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ میرے بیٹے کی رہائی کے لیے جہاں تک ممکن ہوسکے کوشش کریں ۔درحقیقت ان کے پاس اب کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں جس کے تحت میرے بیٹے کو یہ قیدمیں رکھ سکیں ،چونکہ عدالتوں کو سماعت کا اختیار نہیں ۔ورنہ اعلیٰ عدالت ہی ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ۔میرا بھانجا محمد ریاض جسے عدالت نے دس سال سزا دی تھی اسے دوماہ قبل رہا کردیا گیا اب صرف میں اور میرا بڑا بیٹا رہ گئے ہیں باقی سب کو رہا کیا جا چکا ہے یا اپنی اپنی نوکری پر بحال کردیا گیا ہے ۔میں چونکہ اپنا موقف بدلنے کے لیے تیار نہیں اس لیے مجھے انہوں نے جیل میں رکھا ہوا ہے لیکن میں نے ان کو کہا بھی ہے کہ تم بیشک مجھے جیل میں رکھے رکھو جب تک تمہاری حکومت قائم ہے لیکن میرے بیٹے کو جیل میں رکھنے کا تمہیں کوئی حق نہیں کیونکہ اس انقلاب کی ساری ذمہ داری میں خود قبول کرتا ہوں اور میں اسے ایک دینی فریضہ سمجھتا ہوںلیکن میرے بیٹے کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔اس لیے آپ اگر محمود میاں کی یہ ڈیوٹی لگادیں کہ میرے گھر جاکر ایک درخواست کی نقل لے لے جو کسی ایسے آدمی کے حوالے کریں جو ضیاء الحق تک رسائی رکھتا ہو۔ اور اسے صاف صاف کہے کہ تم جو اسلامی انصاف کی باتیں کرتے ہو جنرل تجمل کے بیٹے کو کیوں جیل میں رکھا ہوا ہے جبکہ باقی سب کو رہا کردیا ہے یا اپنے اپنے عہدوں پر بحال کردیا ہے ۔ اس درخواست پر صاف لکھا ہوا ہے کہ ہمیں انصاف چاہیے جو کہ میر ے بیٹے کی طرف سے دی گئی ہے۔ انشاء اللہ حالات ضرور بدلیں گے اور میں آپ کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں گا میری طرف سے محمود میاں کوالسلام علیکم فقط والسلام ٭