ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
میں مشغول رہے عہدِ عالمگیری کے فرامین میں ان کے لیے ''معارف آگاہ''اور بعد وفات ''مغفرت پناہ''اور ''غفران پناہ'' وغیرہ القاب لکھے گئے ہیں ۔٢٩محرم ١٠٩٢ھ/١٦٨١ء میں وفات پائی اور اپنے والد کے پہلو میں بائیں جانب دفن ہوئے۔ لوح مزارپر یہ قطعہ کندہ ہے : بست ونہ از محرم داد نقد جاں شیخ عصر اسمٰعیل گفتہ شد ،شیخ کامل اکمل (١٠٩٢ھ) از پئے یادگار سال رحیل (تاریخ دیوبند ص١٠٩) شاہانِ مغلیہ سیّد صاحب کے علم وفضل، زہدوتقوٰی اور رشدوہدایت سے واقف تھے انہوں نے بڑی قدرومنزلت کی ،خانقاہ کے مصارف کے لیے زمینیں دیں اور فرامین جاری کیے۔یہ فرامین بارہویں صدی ہجری کے آخر میں سکھوں کی تاخت وتاراج میں نذرِ آتش ہوگئے تھے۔ ایک فرمان جو ١٧جلوس شاہ جہانی مطابق ١٠٥٤ھ /١٦٤٤ء کو صادرہوا تھا اس کی مصدقہ نقل ١٢٥٥ھ/١٨٣٩ء میں سہارنپور کی کلکٹری سے دستیاب ہوگئی تھی اُس میں لکھا ہے : ''دریں وقت فرمان عالی شان سعادت نشان مرحمت عنوان شرف صدور عزودرویاخت کہ دوصدبیگہ زمین از پر گنہ دیوبند سرکار سہار نپور دروجہ مدد معاش شیخ محمد اسمٰعیل از جملہ پانصدبیگہ زمین شیخ حاجی ابراہیم پدرمشارالیہ بحسب خرچ خانقاہ بموجب اسنادِ حکام داشت حسب الضمن مقررومفوض باشد کہ حاصلات آں رافصل بفصل وسال بسال صرف معیشت خود نمودہ بدعاگوئی دوام دولت ابدقریں اشتغال می نمودہ باشند ، می باید کہ حکام وعمال وجاگیر داران وکروڑیان حال واستقبال دراستمراء واستقرار ایں حکم اشرف اقدس اعلیٰ کو شیدہ آراضی مذکورہ راپیمودہ وچک بستہ بتصرف مومیٰ الیہ بازگزاشتہ اصلاً ومطلقاً تغیروتبدل بداں راہ نہ دہند بعلت مال وجہات واخراجات مثل قتلغہ وپیش کش وجریمانہ ومحصلانہ ومہرانہ ودارو غگانہ وبیگار سرکار دہ ونیمی ومقدمی وصدوری وضبط ہر سالہ بعد از تشخیص چک بستہ دیگر از زراعت وکل تکالیف دیوانی ومطالبات سلطانی مزاحمت نہ رسانندودریں باب ہر سالہ فرمان وپروانجات مجددنہ طلبندداگر در محل دیگر چیزے داشتہ باشند آں را اعتبار نہ کنند از فرمودہ تخلف وانحراف نہ نوازبند ۔تحریر فی التاریخ ٢٣جمادی الاول ١٧ جلوس مقدس موافق ١٠٥٤ھ۔'' فرمان کی پشت پر اس عطیہ کا مقصد خانقاہ کے مصارف ظاہر کیا گیا ہے، لکھا ہے : ''موازی دو صد بیگہ زمین از جملہ پانصدی کہ بموجب اسناد حکام وبجہت خرچ خانقاہ داشت از