ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کے آگے بھی پڑھیں فھلمن مدّکر ؟ اب اس آیت کامطلب واضح ہو جاتاہے البتہ تحقیق ہم نے قرآن نصیحت پکڑنے کے لیے آسان کر دیا ہے کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اس کے حصۂ قانون کا حل کرنا آسان کردیا ہے کیاہے کوئی حل کرنے والا؟دراصل قرآن و حدیث کے دو حصے ہیں حصۂ قانون اور حصۂ پندو وعظ۔ حصہ قانون کو وہی حل کر سکتے ہیں جو کتاب وسنت اور قانون شریعت کے ماہر ہوں اگر قانون ِشریعت والے حصہ کا حل کرنا آسان ہوتا تو سحری کے وقت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن عباس کو سینہ کے ساتھ لگاکر ہاتھ اُٹھا کر یہ دعا نہ فرماتے اللّٰھم علمہ الکتاب وفقہہ فی الدین اے اللہ اس بچے کو کتاب اللہ کا علم اور قانون شریعت میں مہارت عطا فرما اسی مہارت کا نام فقہ فی الدین ہے ۔دیکھئے انگریزی قانون انسانوں کابنایا ہوا ہے اس کے باوجود اس کی وضاحت کرنے کا حق صرف اور صرف جج اور وکیل کو ہے ان کے علاوہ کوئی کتنا بھی تعلیم یافتہ اور دانشور ہوا س کو وضاحت کرنے کا حق نہیں اور اگر وہ وضاحت کرے گا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا ۔وضات اور تشریح وہی معتبر ہو گی جو وکیل اورجج کریں گے ۔اسی طرح قانون کی وضاحت میں ایک وکیل دوسرے وکیل سے ایک جج دوسرے جج سے اختلاف کر سکتا ہے لیکن ہر ایک کو وکیل یا جج سے اختلاف کرنے کا حق نہیں حتی کہ بعض مرتبہ عدالت میں وکیل اور جج کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے آپس میں بحث بھی ہو جاتی ہے اُس کو توہینِ عدالت تصور نہیں کیا جاتا ،نہ وکیل پر توہین عدالت کا کیس ہوتا ہے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص عدالت میں جج کے ساتھ کسی قانونی نکتہ پر اختلاف و بحث کرے تو توہینِ عدالت کا کیس ہو جائے گا اور ہر فن میں ماہرفن کی رائے ہی معتبر ہوتی ہے اور اُس فن کے ماہر ین ہی آپس میں کسی فنی مسئلہ میں اختلاف کا حق رکھتے ہیں ،دوسروں کی نہ رائے معتبر ہے نہ ان کو اختلاف کرنے کا حق ۔لیکن اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے یا اسلامی حکومت کی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے کتاب و سنت اور قانون ِشریعت کے بارے ہر ایک کو رائے زنی کرنے کا اور مجتہدین اسلام کی متواترو مسلمہ تحقیقات سے اختلاف کرنے کا بلکہ ان کی تحقیقات و تشریحات کو رد کرکے اپنی جاہلانہ تحقیقات و تشریحات کرنے کا حق ہے۔ اس لیے جو آدمی قانون ِاسلام میں مہارت نہیں رکھتا وہ قرآن و حدیث کا موعظة والا حصہ پڑھ کر نصیحت حاصل کرے اس سے نصیحت پکڑنا بہت آسان ہے ۔ (٤) کیا اب کتاب وسنت کے حصہ قانون کا مطالعہ نہ کیا جائے ؟ جواب : مطالعہ کیا جائے لیکن اس کا طریقہ کا راور ترتیب یہ ہے کہ پہلے باقاعدہ کسی ماہر و دیانت دار استاذ کے پاس علوم آلیہ یعنی صرف و نحو وغیرہ پڑھ کر ماہرین ِشریعت یعنی مجتہدین اسلام کی تحقیقات و تشریحات پر مشتمل عربی ،فارسی، اردو کتب کو باقاعدہ کسی ماہراستاذ کے پاس پڑھاجائے یا ان کی نگرانی میں مطالعہ کیا جائے پھر ان تحقیقات و