ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
جواب : جدید تحقیق ان مسائل میں روانہیں جن کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے اور وہ عملی تواتر و توارث سے چلی آرہی ہے لیکن جدید پیش آمدہ مسائل پر تحقیق ناگزیر ہے ۔اس سے فتنہ اور فرقہ واریت پیدا نہیں ہوتی نہ ہونی چاہئے لیکن اس تحقیق کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں : نمبر ا : علوم آلیہ اور علوم عالیہ میں پوری مہارت یعنی علم صرف ،علم نحو ،علم بیان ،علم بدیع ،عربی ادب ،علم تفسیر اور اصو ل تفسیر ،علم الفقہ اور اصولِ فقہ، علم الحدیث واصول حدیث ،علم الکلام ،علم اسماء الرجال ،علم التاریخ یعنی احوال ماضی اور موجودہ احوال ، زمانہ کا علم ،اور ان علوم میں بھی صرف ابجد شناسی کافی نہیں بلکہ پوری مہارت ہو۔اگر پوری مہارت نہ ہو تو اس علم کے ضروری مسائل کا علم ہو۔ نمبر٢ : جدید مسائل کا حل انفرادی طورپرنہ ہو بلکہ شورائی طریقہ پر ہو جیسا کہ امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنے چالیس جید شاگردوں کی مجلس شورٰی قائم کرکے اس میں احکام شرعیہ کے علم کو مدون کیا گیا۔ نمبر٣ : مجلس شورٰی کا ہر رکن علوم آ لیہ اور علوم عالیہ کا ماہر ہو ، متقی ،پرہیز گار، علم وعمل کا جامع ہو اور خالص اسلامی ذہن رکھتاہو، مغربی تہذیب وتمدن کا دلدادہ اور مغربی یورپین اساتذہ کا تربیت یافتہ نہ ہو ۔ نمبر ٤ : جدید مسائل کو جب کتاب و سنت کی روشنی میں حل کرنا ہے تو فیصلہ کرنے کی اتھارٹی علماء شورٰی کے پاس ہوگی البتہ جہاں تحقیق مسائل میں وہ جدید معلومات کی ضرورت محسوس کریںوہاں ان کو جدید علوم وفنون کے وہ ماہرین معلومات فراہم کرنے میں تعا ون کریں جن کو بطور ِرکن شورٰی نامزد کیا جائے۔ نمبر ٥ : جدید مسائل کوحل کرنے میں اُن اُصولوں کو پیش نظر رکھا جائے جو مجتہدین اسلام نے طے کر دئیے ہیںجدید مسائل کا حل اُن اُصولوں کے ماتحت رہ کر ہو، ان سے بالا تر ہو کر نہیںہے۔ نمبر ٦ : سب کو مجلس شورٰی کے فیصلے کا پابند کیا جائے ۔انفرادی طور پر اپنی اپنی تحقیق کے پردہ میں فتنہ کھڑا کرنے اور فرقہ واریت پھیلانے کی اجاز نہ دی جائے اور اگر کسی میں جوش ِتحقیق اتنا موجزن ہو کہ وہ صبر نہیں کر سکتا تو وہ اپنی تحقیق تحریری طورپرمجلس شورٰی میں پیش کردے بس اس کا فرض ادا ہو گیا ۔ایسی شورٰی حکومت بھی تشکیل دے سکتی ہے اور اگر چاہیں تو علماء اور جدید دین دار ماہرین خود بھی بنا سکتے ہیں ۔ (٣) جناب اللہ نے قرآن کو آسان کیا ہے ولقد یسرنا القرآن للذکر لیکن آپ نے بہت مشکل کر دیا ہے! جواب : محترم آپ نے ایسے کام کیا ہے جیسے کوئی لاتقربو ا الصلوة پڑھے اور وانتم سکارٰی کو چھوڑ دے اس