ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017 |
اكستان |
|
ہم ناظرین کو اب پھر دوسرے امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں ،صحیح احادیث میں واقعات ایسے موجود ہیں کہ آپ نے ایک شب میں کبھی کبھی اپنی تمام ازواج جن کی شمار اُس وقت نوتک کی تھی ہمبستری فرمائی اور یہ واقعات آخری عمر کے ہیں خصوصًا حجة الوداع کا واقعہ جو ذی الحلیفہ میں احرام سے پہلے ظہور میں آیا۔ اس لیے غور کرنے کا مقام ہے جس مقدس شخص کی قوت تریسٹھ برس کی عمر میں باوجود احوالِ مذکورة الصدر اتنی ہو اُس کی طاقت جوانی اور ادھیڑ پن کے زمانہ میں کس قدر ہوگی اور اُس کا اس زمانہ میں عفت اور عصمت کے ساتھ بے نکاح اور فقط ایک عورت کے ساتھ رہنا کتنا بڑا سخت کام ہوگا۔ اس مقام پر اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک شب میں جناب ِ رسول اللہ ۖ کا ہر عورت کے پاس جانا اور ہمبستری کرنا محض شرعی مصلحتوں اور قوانین کے بیان کی غرض سے ہوا تھا جس سے غسلِ احرام، انصاف بین النساء ،حسن ِ معاشرت وغیرہ کے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں مگر باوجود اِن جملہ امور کے ہماری معروضہ بات پر بھی نہایت تیز روشنی پڑتی ہے۔ایک اہم نکتہ : ہم ناظرین کو پھر ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جب یہ بیان کیا کہ ایک شب میں آپ نے تمام موجودہ ازواج کے ساتھ ہمبستری فرمائی تو لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ اتنی طاقت جنابِ رسول اللہ ۖ میں موجود تھی ؟ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم لوگ آپس میں اُس زمانہ میں گفتگو کیا کرتے تھے کہ آنحضرت ۖ کو چالیس مردوں کی قوتِ باہ عطا کی گئی ہے ،یہ قول حضرت انس کا نہایت صحیح اور قوی معلوم ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس آخری عمر میں اس قدر موانع کے موجود ہوتے ہوئے آپ کو روزانہ ایک زوجہ سے ہمبستری کی طاقت نہیں ہو سکتی تھی چہ جائیکہ نو عورتوں سے ایک شب میں ہم بسترہوں۔ اب اس سے اندازہ کرنا چاہیے کہ جبکہ اُمت کے ہر ایک مرد کو چار عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے تو جنابِ رسول اللہ ۖ کو ایک سو ساٹھ عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہونا چاہیے اور جبکہ