Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017

اكستان

29 - 66
 ہم ناظرین کو اب پھر دوسرے امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں ،صحیح احادیث میں واقعات ایسے موجود ہیں کہ آپ نے ایک شب میں کبھی کبھی اپنی تمام ازواج جن کی شمار اُس وقت نوتک کی تھی ہمبستری فرمائی اور یہ واقعات آخری عمر کے ہیں خصوصًا حجة الوداع کا واقعہ جو ذی الحلیفہ میں احرام سے پہلے ظہور میں آیا۔ اس لیے غور کرنے کا مقام ہے جس مقدس شخص کی قوت تریسٹھ برس کی عمر میں باوجود احوالِ مذکورة الصدر اتنی ہو اُس کی طاقت جوانی اور ادھیڑ پن کے زمانہ میں کس قدر ہوگی اور اُس کا اس زمانہ میں عفت اور عصمت کے ساتھ بے نکاح اور فقط ایک عورت کے ساتھ رہنا کتنا بڑا سخت کام ہوگا۔ 
اس مقام پر اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک شب میں جناب ِ رسول اللہ  ۖ  کا ہر عورت کے پاس جانا اور ہمبستری کرنا محض شرعی مصلحتوں اور قوانین کے بیان کی غرض سے ہوا تھا جس سے غسلِ احرام، انصاف بین النساء ،حسن ِ معاشرت وغیرہ کے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں مگر باوجود اِن جملہ امور کے ہماری معروضہ بات پر بھی نہایت تیز روشنی پڑتی ہے۔ 
ایک اہم نکتہ  : 
ہم ناظرین کو پھر ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے جب یہ بیان کیا کہ ایک شب میں آپ نے تمام موجودہ ازواج کے ساتھ ہمبستری فرمائی تو لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ اتنی طاقت جنابِ رسول اللہ  ۖ  میں  موجود تھی  ؟  اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم لوگ آپس میں اُس زمانہ میں گفتگو کیا کرتے تھے کہ آنحضرت  ۖ  کو چالیس مردوں کی قوتِ باہ عطا کی گئی ہے ،یہ قول حضرت انس  کا نہایت صحیح اور قوی معلوم ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس آخری عمر میں اس قدر موانع کے موجود ہوتے ہوئے آپ کو روزانہ ایک زوجہ سے ہمبستری کی طاقت نہیں ہو سکتی تھی چہ جائیکہ نو عورتوں سے ایک شب میں ہم بسترہوں۔ 
اب اس سے اندازہ کرنا چاہیے کہ جبکہ اُمت کے ہر ایک مرد کو چار عورتوں سے نکاح کرنا   جائز ہے تو جنابِ رسول اللہ  ۖ  کو ایک سو ساٹھ عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہونا چاہیے اور جبکہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 7 1
5 چھوٹے گناہوں پر بھی گرفت ہو سکتی ہے 7 4
6 وفیات 9 1
7 صالح جمہوریت اور تعمیر جمہوریت 10 1
8 اصلاحِ معاشرہ کے اصول : 10 7
9 (الف) ایک دوسرے کا احترام : 11 7
10 (ب) دلوں کی صفائی : 14 7
11 (ج) جذبۂ تقدم و ترقی میں اعتدال : 19 7
12 (د) افواہ کی تحقیق، قوتِ مقاومت اور حوصلہ ٔ تادیب : 20 7
13 سیرت ِ پاک کا اِزدواجی پہلو اور مسئلہ کثرت ِ ازدواج 22 1
14 تعدد ِ ازواج کا دور اور خطراتِ شہوت پرستی کا قلع قمع : 22 13
15 ازواجِ مطہرات کے ذریعہ تعلیماتِ اسلام کی نشرو اشاعت : 27 13
16 تعددِ ازواج کا سیاسی پہلو : 28 13
17 آنحضرت ۖ کی قوت ِ رجولیت اور انتہائی نفس کُشی : 28 13
18 ایک اہم نکتہ : 29 13
19 تبلیغ ِ دین 31 1
20 مذموم اخلاق کی تفصیل اور طہارتِ قلب کا بیان 31 19
21 (١) پہلی اصل ....... کثرتِ اکل اور حرصِ طعام کا بیان : 32 19
22 تقلیلِ طعام کے فوائد : 32 19
23 مقدارِ طعام کے مراتب : 34 19
24 وقت ِاکل کے مختلف درجات : 35 19
25 جنس ِطعام کے مراتب مختلفہ : 36 19
26 سالکوں کو ترک ِلذائذ کی ضرورت : 36 19
27 فضائلِ مسجد 37 1
28 مسجد بنانا : 37 27
29 صدقاتِ جاریہ : 40 27
30 (١) علم سیکھنا اور سکھانا : 41 27
31 (٢) نیک اولاد : 41 27
32 (٣) ورثہ میں چھوڑ ا ہوا قرآن شریف : 42 27
33 (٤) مسافر خانہ اور نہر بنانا : 42 27
34 (٥) صدقہ : 42 27
35 مسجدیں آباد رکھنا : 43 27
36 عقیدۂ ختم ِ نبوت کی عظمت واہمیت 46 1
37 اولاد کی تعلیم و تربیت 51 1
38 دل کی حفاظت 55 1
39 حضرات ِصحابہ کرام وغیرہم کی سخاوت کے چند واقعات 55 38
40 حضرت ابو بکر کی سخاوت : 55 38
41 حضرت عمر کی سخاوت : 56 38
42 حضرت عثمانِ غنی کی سخاوت : 56 38
43 حضرت علی کی سخاوت : 57 38
44 حضرت طلحہ کی سخاوت : 57 38
45 حضرت عائشہ کی سخاوت : 58 38
46 حضرت سعید بن زید کی سخاوت : 58 38
47 حضرت عبد اللہ بن جعفر کی سخاوت : 59 38
48 سیّدنا حضرت حسین کی سخاوت : 60 38
49 حضرت عبداللہ بن عباس کی سخاوت : 61 38
50 خانوادہ ٔ نبوت کی سخاوت کا نمونہ : 61 38
51 حضرت لیث بن سعد کی سخاوت : 62 38
52 حضرت عبداللہ بن عامر کی سخاوت : 62 38
53 اخبار الجامعہ 64 1
54 بقیہ : فضائل مسجد 64 27
56 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے 65 1
Flag Counter