ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017 |
اكستان |
|
ادنیٰ درجہ : یہ ہے کہ روزانہ صرف ایک دفعہ کھایا کرو کیونکہ دونوں وقت کھانے سے بھوک کی کبھی حاجت ہی نہ ہوگی پس جو شخص دو وقتہ کھانے کا عادی ہے اُس کو بھوک کا مزہ ہی معلوم نہیں ہوسکتا کہ کیسا ہوتا ہے۔جنس ِطعام کے مراتب مختلفہ : جنس میں اعلیٰ درجہ گہیوں کی روٹی کا ترکاری کے ساتھ کھانا ہے اور ادنیٰ درجہ جو کی روٹی کو بلاترکاری کھانا ہے۔ یادرکھو کہ ترکاری کی عادت اور مداومت بہت بری ہے حضرت عمر فاروق نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی تھی کہ صاحبزادے کبھی گوشت روٹی کھائو اور کبھی روٹی و گھی اور کبھی دودھ روٹی ،کبھی سرکہ روٹی کبھی زیتون کے ساتھ روٹی کھائو اور کبھی نمک کے ساتھ اور کبھی صرف روٹی پر قناعت کیا کرو، حضرت عمر فاروق کا یہ ارشاد بھی اُن لوگوں کے لیے ہے جن کو ترکاری کی ہمیشہ عادت ہے۔سالکوں کو ترک ِلذائذ کی ضرورت : جو اہلِ طریقت اور سالک ہیں اُن کو ترکاری کیا معنٰی ،ساری ہی مزہ دار چیزوں اور خواہشوں کے پورا کرنے سے منع کیا جاتا ہے ،بعض بزرگوں نے ایک چیز کی خواہش کو دس دس اور بیس بیس برس روکے رکھا اور پورا نہیں ہونے دیا۔ رسول اللہ ۖنے فرمایا ہے کہ میری اُمت میں بدتر لوگ وہ ہیں جن کے بدن عمدہ غذائوں اور لذیذ طعام سے پرورش پائے ہوئے ہیں،ایسے لوگوں کی ہمتیں بس طرح طرح کے کھانوں اور قسم قسم کے لباسوں ہی کی جانب متوجہ ہیں کہ منہ پھاڑ پھاڑ کر باتیں بناتے ہیں اور کام کچھ بھی نہیں کرتے۔ (جاری ہے)