ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017 |
اكستان |
|
اُوپر آدھ سیر کا ہوتا ہے)پر اکتفا کیا کرو ۔حضرت عمر فاروق اور اکثر صحابہ کی عادت تھی کہ ہفتہ بھر میں ایک صاع(ایک صاع تخمیناً ساڑھے تین سیر انگریزی وزن کا ہوتا ہے)جو سے زیادہ نہ کھاتے تھے۔ ادنیٰ درجہ : یہ ہے کہ روزانہ ایک مد کی مقدار کھائو ،اگر اس سے زیادہ کھائو گے تو پیٹ کے بندے سمجھے جائو گے اور چونکہ مقدار خوراک کے بارے میں لوگوں کی طبیعتیں اور حالات مختلف ہوتے ہیں لہٰذا سب کے لیے ایک مقدار معین نہیں ہوسکتی چنانچہ دیکھا جاتا ہے بعض لوگ سیر بھر اناج کھاسکتے ہیں اور بعض آدمیوں سے پائو بھر بھی نہیں کھایا جاتا اس لیے قاعدہ کلیہ یادرکھو کہ جب اشتہائے صادق ہو تو کھانے کی جانب ہاتھ بڑھائو اور یہ اشتہا پوری نہ ہونے پائے کہ ہاتھ روک لو اور صادق اشتہا کی علامت یہ ہے کہ جیسی بھی روٹی سامنے آجائے اُس کو سالن اور ترکاری کے بغیر کھانے کی رغبت ہو کیونکہ جب خالص گیہوں کی خواہش ہوئی یا سالن کے بغیر روٹی کھانا گراں گزرا تو معلوم ہوا کہ بھوک کی سچی خواہش نہیں ہے بلکہ طبیعت کو لذت اور ذائقہ کی جانب ایسا میلان ہے جیسا شکم سیر ہونے کے بعد پھل یا میوہ کا ہوا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا نام بھوک نہیں ہے بلکہ تفکہ اور تلذذ(مزہ اور لذت حاصل کرنا)ہے۔وقت ِاکل کے مختلف درجات : کھانے کے وقت میں بھی کئی درجے ہیں : اعلیٰ درجہ : تو یہ ہے کہ کم سے کم تین دن بھوکے رہ کر چوتھے دن کھایا کرو، دیکھو حضرت صدیق پے در پے چھ چھ دن تک بھوکے رہتے تھے اور حضرت ابراہیم بن ادہماور حضرت سفیان ثوری سات دن بھوکے رہنے کے عادی تھے اور بعض بزرگوں کے فاقہ کی نوبت چالیس دن تک پہنچی ہے اور یادرکھو کہ جو شخص چالیس دن تک بھوکا رہے گا اُس پر مَلکوتی عجائبات اور اسرار میں سے کوئی راز ضرور منکشف ہوگا اور چونکہ یک لخت اس کا حاصل کرنا بھی دُشوار ہے اس لیے آہستہ آہستہ بھوک کی عادت ڈالو۔ متوسط درجہ : یہ ہے کہ دو دن بھوکے رہو اور تیسرے دن کھایا کرو۔