Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017

اكستان

35 - 66
اُوپر آدھ سیر کا ہوتا ہے)پر اکتفا کیا کرو ۔حضرت عمر فاروق  اور اکثر صحابہ کی عادت تھی کہ ہفتہ بھر میں ایک صاع(ایک صاع تخمیناً ساڑھے تین سیر انگریزی وزن کا ہوتا ہے)جو سے زیادہ نہ کھاتے تھے۔ 
ادنیٰ درجہ  :  یہ ہے کہ روزانہ ایک مد کی مقدار کھائو ،اگر اس سے زیادہ کھائو گے تو پیٹ کے بندے سمجھے جائو گے اور چونکہ مقدار خوراک کے بارے میں لوگوں کی طبیعتیں اور حالات مختلف ہوتے ہیں لہٰذا سب کے لیے ایک مقدار معین نہیں ہوسکتی چنانچہ دیکھا جاتا ہے بعض لوگ سیر بھر اناج کھاسکتے ہیں اور بعض آدمیوں سے پائو بھر بھی نہیں کھایا جاتا اس لیے قاعدہ کلیہ یادرکھو کہ جب اشتہائے صادق ہو تو کھانے کی جانب ہاتھ بڑھائو اور یہ اشتہا پوری نہ ہونے پائے کہ ہاتھ روک لو اور صادق اشتہا کی علامت یہ ہے کہ جیسی بھی روٹی سامنے آجائے اُس کو سالن اور ترکاری کے بغیر کھانے کی رغبت ہو  کیونکہ جب خالص گیہوں کی خواہش ہوئی یا سالن کے بغیر روٹی کھانا گراں گزرا تو معلوم ہوا کہ بھوک کی سچی خواہش نہیں ہے بلکہ طبیعت کو لذت اور ذائقہ کی جانب ایسا میلان ہے جیسا شکم سیر ہونے کے بعد پھل یا میوہ کا ہوا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا نام بھوک نہیں ہے بلکہ تفکہ اور تلذذ(مزہ اور لذت حاصل کرنا)ہے۔
وقت ِاکل کے مختلف درجات  :
کھانے کے وقت میں بھی کئی درجے ہیں  :
اعلیٰ درجہ  :  تو یہ ہے کہ کم سے کم تین دن بھوکے رہ کر چوتھے دن کھایا کرو، دیکھو حضرت صدیق   پے در پے چھ چھ دن تک بھوکے رہتے تھے اور حضرت ابراہیم بن ادہماور حضرت سفیان ثوری سات دن بھوکے رہنے کے عادی تھے اور بعض بزرگوں کے فاقہ کی نوبت چالیس دن تک پہنچی ہے اور یادرکھو کہ جو شخص چالیس دن تک بھوکا رہے گا اُس پر مَلکوتی عجائبات اور اسرار میں سے کوئی راز ضرور  منکشف ہوگا اور چونکہ یک لخت اس کا حاصل کرنا بھی دُشوار ہے اس لیے آہستہ آہستہ بھوک کی عادت ڈالو۔ 
متوسط درجہ  :  یہ ہے کہ دو دن بھوکے رہو اور تیسرے دن کھایا کرو۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 7 1
5 چھوٹے گناہوں پر بھی گرفت ہو سکتی ہے 7 4
6 وفیات 9 1
7 صالح جمہوریت اور تعمیر جمہوریت 10 1
8 اصلاحِ معاشرہ کے اصول : 10 7
9 (الف) ایک دوسرے کا احترام : 11 7
10 (ب) دلوں کی صفائی : 14 7
11 (ج) جذبۂ تقدم و ترقی میں اعتدال : 19 7
12 (د) افواہ کی تحقیق، قوتِ مقاومت اور حوصلہ ٔ تادیب : 20 7
13 سیرت ِ پاک کا اِزدواجی پہلو اور مسئلہ کثرت ِ ازدواج 22 1
14 تعدد ِ ازواج کا دور اور خطراتِ شہوت پرستی کا قلع قمع : 22 13
15 ازواجِ مطہرات کے ذریعہ تعلیماتِ اسلام کی نشرو اشاعت : 27 13
16 تعددِ ازواج کا سیاسی پہلو : 28 13
17 آنحضرت ۖ کی قوت ِ رجولیت اور انتہائی نفس کُشی : 28 13
18 ایک اہم نکتہ : 29 13
19 تبلیغ ِ دین 31 1
20 مذموم اخلاق کی تفصیل اور طہارتِ قلب کا بیان 31 19
21 (١) پہلی اصل ....... کثرتِ اکل اور حرصِ طعام کا بیان : 32 19
22 تقلیلِ طعام کے فوائد : 32 19
23 مقدارِ طعام کے مراتب : 34 19
24 وقت ِاکل کے مختلف درجات : 35 19
25 جنس ِطعام کے مراتب مختلفہ : 36 19
26 سالکوں کو ترک ِلذائذ کی ضرورت : 36 19
27 فضائلِ مسجد 37 1
28 مسجد بنانا : 37 27
29 صدقاتِ جاریہ : 40 27
30 (١) علم سیکھنا اور سکھانا : 41 27
31 (٢) نیک اولاد : 41 27
32 (٣) ورثہ میں چھوڑ ا ہوا قرآن شریف : 42 27
33 (٤) مسافر خانہ اور نہر بنانا : 42 27
34 (٥) صدقہ : 42 27
35 مسجدیں آباد رکھنا : 43 27
36 عقیدۂ ختم ِ نبوت کی عظمت واہمیت 46 1
37 اولاد کی تعلیم و تربیت 51 1
38 دل کی حفاظت 55 1
39 حضرات ِصحابہ کرام وغیرہم کی سخاوت کے چند واقعات 55 38
40 حضرت ابو بکر کی سخاوت : 55 38
41 حضرت عمر کی سخاوت : 56 38
42 حضرت عثمانِ غنی کی سخاوت : 56 38
43 حضرت علی کی سخاوت : 57 38
44 حضرت طلحہ کی سخاوت : 57 38
45 حضرت عائشہ کی سخاوت : 58 38
46 حضرت سعید بن زید کی سخاوت : 58 38
47 حضرت عبد اللہ بن جعفر کی سخاوت : 59 38
48 سیّدنا حضرت حسین کی سخاوت : 60 38
49 حضرت عبداللہ بن عباس کی سخاوت : 61 38
50 خانوادہ ٔ نبوت کی سخاوت کا نمونہ : 61 38
51 حضرت لیث بن سعد کی سخاوت : 62 38
52 حضرت عبداللہ بن عامر کی سخاوت : 62 38
53 اخبار الجامعہ 64 1
54 بقیہ : فضائل مسجد 64 27
56 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے 65 1
Flag Counter