ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017 |
اكستان |
|
احادِ اُمت ١ میں چار عورتوںکی قوت ہے تو آپ میں ایک سو ساٹھ عورتوں کے سنبھالنے کی قوت ہونی چاہیے اس لحاظ سے جنابِ ر سول اللہ ۖ کا پچیس برس تک بلا زوجہ رہنا اور پچاس برس تک کی عمر تک فقط ایک زوجہ پر کفایت کرنا کیا انتہائی تشدد اپنے نفس پر نہ ہوگا اور کیا اس کے بعد بھی فقط نو عورتوں پرکفایت کرنا اعلیٰ درجہ کی ریاضت نہ ہوگی۔ ہم ناظرین کو اس کے بعد ایک اور ضروری بات یاد دلانا چاہتے ہیں علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ خصائص ِ کبری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا مقولہ مذکورة الصدر نقل فرماتے ہیں کہ جن چالیس مردوں کی قوت ِ باہ آپ کو دی گئی تھی وہ اس دنیا کے مرد نہیں بلکہ جنت کے چالیس مردوں کی قوت آپ کو دی گئی تھی اور چونکہ احادیث ِصحیحین سے یہ بات دکھائی گئی ہے کہ جنت میں ہر مرد کو دنیا کے سو مردوں کی قوت دی جائے گی اس لیے آنحضرت علیہ السلام میں دنیا کے چار ہزار مردوں کی قوت ہونی چاہیے اس لحاظ سے باقاعدۂ چار ازواج چاہیے کہ آپ کو سولہ ہزار ازواج کی اجازت دی جائے اور آپ میں اتنی ہی ازواج کی قوت موجود ہونی چاہیے۔ اب اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس شخص میں سولہ ہزار عورتوں کی قوت ِ باہ موجود ہے اُس کا پچیس برس تک بے نکاح عفت کے ساتھ رہنا اور پچپن برس تک فقط ایک عورت کے ساتھ رہنا اور اس کے بعدبھی صرف نو عورتوں تک کفایت کرنا نفس کُشی کا کتنا بڑا مرتبہ ہے اور پھر اسی کے ساتھ نو عمر دو شیزہ لڑکیوں کی طرف رغبت نہ کرنا، اجنبی عورتوں سے اس قدر پرہیز رکھنا کہ بیعت کے وقت میں بھی ان کو فقط پردہ کے اندر سے بلا مصافحہ بیعت کرنا کسی قسم کے خلط وملط کو غیر عورتوں سے روا نہ رکھنا یہ اعلیٰ درجہ کی پاکدامنی اور عصمت نہیں تو کیا ہے ! ! ! ؟ ؟وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْل ننگ ِ اسلاف حسین احمد غفرلہ ------------------------------١ اُمت کے افراد