Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017

اكستان

43 - 66
پوری تعظیم کرتا ہے) بشرطیکہ پاک کمائی سے دیا ہو کیونکہ اللہ پاک چیز کو پسند کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو پالتا ہے اور بڑھاتا ہے یہاں تک کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ 
(٣)  عَنْ عَائِشَةَ اَنَّہُ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  ۖ  بِبِنَائِ الْمَسَاجِدِ فِی الدُّوْرِ وَاَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ۔   ١  
''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ  ۖ  نے گھروں میں مسجد بنانے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے اور ان میں خوشبو لگانے کاحکم فرمایا۔''  
گھروں میں مسجد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ گھر میں کوئی جگہ ایسی بنالی جائے جو ہر وقت پاک  و صاف رہے اور نوافل وغیرہ نماز کے لیے مخصوص ہو، گھر کی عورتیں بھی اسی جگہ نماز پڑھا کریں اور اعکاف اسی جگہ کیا کریں، مرد بھی ان گھریلو مسجدوں میں سنتیں اور نوافل پڑھا کریں، ان مقامات میں کبھی کبھی خوشبو بھی لگایا کریں مگر یہ یاد رکھیں کہ یہ جگہ مسجد کے حکم میں نہیں اس کا یہ مقصد نہیں کہ یہ اصل مسجد کا بدل ہوجائے گی نہ اِس کی وجہ سے محلہ کی مسجد چھوڑی جا سکتی ہے، ان جگہوں کو گرمی و سردی کے اعتبار سے بھی بدلا جا سکتا ہے اور ان مقامات کو دوسرے پاک مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے ان کی خریدو فروخت بھی ہوسکتی ہے۔ 
مسجدیں آباد رکھنا  : 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے  :
( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ  فَعَسٰی اُولٰئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ )  ٢  
 ''اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوة دیں اور بجر اللہ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع (یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچ جاویں گے۔'' 
------------------------------
  ١   ترمذی شریف  ابواب السفر  رقم الحدیث  ٥٩٤   ٢     سُورہ براء ة :  ١٨

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 7 1
5 چھوٹے گناہوں پر بھی گرفت ہو سکتی ہے 7 4
6 وفیات 9 1
7 صالح جمہوریت اور تعمیر جمہوریت 10 1
8 اصلاحِ معاشرہ کے اصول : 10 7
9 (الف) ایک دوسرے کا احترام : 11 7
10 (ب) دلوں کی صفائی : 14 7
11 (ج) جذبۂ تقدم و ترقی میں اعتدال : 19 7
12 (د) افواہ کی تحقیق، قوتِ مقاومت اور حوصلہ ٔ تادیب : 20 7
13 سیرت ِ پاک کا اِزدواجی پہلو اور مسئلہ کثرت ِ ازدواج 22 1
14 تعدد ِ ازواج کا دور اور خطراتِ شہوت پرستی کا قلع قمع : 22 13
15 ازواجِ مطہرات کے ذریعہ تعلیماتِ اسلام کی نشرو اشاعت : 27 13
16 تعددِ ازواج کا سیاسی پہلو : 28 13
17 آنحضرت ۖ کی قوت ِ رجولیت اور انتہائی نفس کُشی : 28 13
18 ایک اہم نکتہ : 29 13
19 تبلیغ ِ دین 31 1
20 مذموم اخلاق کی تفصیل اور طہارتِ قلب کا بیان 31 19
21 (١) پہلی اصل ....... کثرتِ اکل اور حرصِ طعام کا بیان : 32 19
22 تقلیلِ طعام کے فوائد : 32 19
23 مقدارِ طعام کے مراتب : 34 19
24 وقت ِاکل کے مختلف درجات : 35 19
25 جنس ِطعام کے مراتب مختلفہ : 36 19
26 سالکوں کو ترک ِلذائذ کی ضرورت : 36 19
27 فضائلِ مسجد 37 1
28 مسجد بنانا : 37 27
29 صدقاتِ جاریہ : 40 27
30 (١) علم سیکھنا اور سکھانا : 41 27
31 (٢) نیک اولاد : 41 27
32 (٣) ورثہ میں چھوڑ ا ہوا قرآن شریف : 42 27
33 (٤) مسافر خانہ اور نہر بنانا : 42 27
34 (٥) صدقہ : 42 27
35 مسجدیں آباد رکھنا : 43 27
36 عقیدۂ ختم ِ نبوت کی عظمت واہمیت 46 1
37 اولاد کی تعلیم و تربیت 51 1
38 دل کی حفاظت 55 1
39 حضرات ِصحابہ کرام وغیرہم کی سخاوت کے چند واقعات 55 38
40 حضرت ابو بکر کی سخاوت : 55 38
41 حضرت عمر کی سخاوت : 56 38
42 حضرت عثمانِ غنی کی سخاوت : 56 38
43 حضرت علی کی سخاوت : 57 38
44 حضرت طلحہ کی سخاوت : 57 38
45 حضرت عائشہ کی سخاوت : 58 38
46 حضرت سعید بن زید کی سخاوت : 58 38
47 حضرت عبد اللہ بن جعفر کی سخاوت : 59 38
48 سیّدنا حضرت حسین کی سخاوت : 60 38
49 حضرت عبداللہ بن عباس کی سخاوت : 61 38
50 خانوادہ ٔ نبوت کی سخاوت کا نمونہ : 61 38
51 حضرت لیث بن سعد کی سخاوت : 62 38
52 حضرت عبداللہ بن عامر کی سخاوت : 62 38
53 اخبار الجامعہ 64 1
54 بقیہ : فضائل مسجد 64 27
56 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجیے 65 1
Flag Counter