ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2017 |
اكستان |
|
پوری تعظیم کرتا ہے) بشرطیکہ پاک کمائی سے دیا ہو کیونکہ اللہ پاک چیز کو پسند کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو پالتا ہے اور بڑھاتا ہے یہاں تک کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔(٣) عَنْ عَائِشَةَ اَنَّہُ اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ بِبِنَائِ الْمَسَاجِدِ فِی الدُّوْرِ وَاَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ۔ ١ ''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے گھروں میں مسجد بنانے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے اور ان میں خوشبو لگانے کاحکم فرمایا۔'' گھروں میں مسجد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ گھر میں کوئی جگہ ایسی بنالی جائے جو ہر وقت پاک و صاف رہے اور نوافل وغیرہ نماز کے لیے مخصوص ہو، گھر کی عورتیں بھی اسی جگہ نماز پڑھا کریں اور اعکاف اسی جگہ کیا کریں، مرد بھی ان گھریلو مسجدوں میں سنتیں اور نوافل پڑھا کریں، ان مقامات میں کبھی کبھی خوشبو بھی لگایا کریں مگر یہ یاد رکھیں کہ یہ جگہ مسجد کے حکم میں نہیں اس کا یہ مقصد نہیں کہ یہ اصل مسجد کا بدل ہوجائے گی نہ اِس کی وجہ سے محلہ کی مسجد چھوڑی جا سکتی ہے، ان جگہوں کو گرمی و سردی کے اعتبار سے بھی بدلا جا سکتا ہے اور ان مقامات کو دوسرے پاک مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے ان کی خریدو فروخت بھی ہوسکتی ہے۔مسجدیں آباد رکھنا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰی اُولٰئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ) ٢ ''اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوة دیں اور بجر اللہ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع (یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچ جاویں گے۔'' ------------------------------١ ترمذی شریف ابواب السفر رقم الحدیث ٥٩٤ ٢ سُورہ براء ة : ١٨