Deobandi Books

معین السراجی ۔ یعنی طلبا و طالبات فرائض کے لیے انمول تحفہ

20 - 56
کیا ہو جو دوسرے کی تصدیق کیے بغیر محض اُس کے اقرار سے ثابت نہ ہو(۱)۔ 
(۹) موصیٰ لہ بجمیع المال 
	جس موصیٰ لہ بجمیع المال کو دیگر مستحقین کے شرعی حق کی بنا پر اولاً صرف ثلث دیا گیا تھا، اب مذکورہ بالا مستحقین میں سے کسی کے نہ ہونے کے وقت باقی دو ثلث بھی اُسی کو دے دیا جائے گا۔
(۱۰) بیت المال یا رد علیٰ الزوجین
	اگر مذکورۂ بالا مستحقین میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پورا مال بیت المال (اسلامی خزانہ)میں جمع کیا جائے گا، (جس سے نادار مریضوں کی دوا، لقیط کا نان نفقہ، جنایت کی دیت اور لا وارث نادار مُردوں کی تجہیزو تکفین کے کام کیے جائیں گے۔)
	فائدہ:متأخرین علمانے جب دیکھا کہ فی زماننا نہ تو کوئی شرعی بیت المال موجود ہے، اور نہ اِس قسم کے اموال کو شرعی مصارف میں صَرف کیاجاتا ہے؛ اِس لیے اگر زوجین میں سے کوئی ایک موجود ہو، اور اُن کے حصے سے باقی ماندہ مال کے لیے مستحقینِ مذکورۂ بالا میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو، تو بہ جائے بیت المال کے 
                                            
	(۱) مثلاً میت نے زید کے متعلق اپنے بھائی یا چچا ہونے کا اقرار کر لیا-بہ شرطے کہ زید مجہول النسب شخص تھا- توچوں کہ میت زید کو اپنے باپ یا دادا کے نسب میں داخل کرنا چاہتا ہے، اور یہ محض اُس کے اقرار سے نہیں ہوسکتا؛ البتہ انسان اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتا ہے؛ اِس لیے اگر یہ میت بعدِ اقرار تا حیات اپنے اقرار پر بر قرار رہا، اور غیر (باپ، دادا) نے مُقِر (میت) کی تصدیق نہیں کی تھی، تو اگرمذکورہ بالامستحقین میں سے کوئی نہ ہو تو سارا مال مُقَر لہ بالنسب علیٰ الغیر کو ملے گا۔


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 معین السراجی 1 1
3 تفصیلات 2 2
4 فہرست 3 2
5 تقریظ ـ مربی ومولائی حضرت مولانا یونس صاحب تاجپوری دامت برکاتہم (شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) 5 2
6 تقریظ: حضرت مفکرِ ملت مولانا عبداللہ صاحب کاپودروی دامت برکاتہم (سابق رئیس جامعہ فلاح دارین ترکیسر) 6 2
7 تقریظ حضرت مفتی ابوبکر صاحب پٹنی مدظلہ (استاذ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل) 9 2
8 پیش لفظ 11 2
9 تعریفِ علمِ فرائض: 15 1
10 موضوع 15 9
11 غرض 15 9
12 حکمِ شرعی 15 9
13 ترکہ کی تعریف 16 9
14 ترکہ سے متعلق بالترتیب حقوق اربعہ 16 1
15 مستحقین ترکہ 16 1
16 (۱) ذوی الفروض 17 15
17 (۲) عصباتِ نسبیہ 18 15
18 (۳) عصبات سببیہ 18 15
19 (۴) عصبۂ سببی کے عصبات 18 15
20 (۵) رد بذوی الفروض 18 15
21 (۶) ذوی الارحام 19 15
22 (۷) مولی الموالات 19 15
23 (۸) مُقَر لہ بالنسبِ علیٰ الغیر 19 15
24 (۹) موصیٰ لہ بجمیع المال 20 15
25 (۱۰) بیت المال یا رد علیٰ الزوجین 20 15
26 موانع ارث 21 1
27 فروض مقدرہ اور اُن کے مستحقین 22 1
28 ذ وی الفروض 22 1
29 مَردوں کے احوال 23 1
30 (۱)احوالِ اب (باپ) 23 29
31 (۲) احوال جدِّ صحیح 23 29
32 (۳)احوال اولاد الام(اخیافی بھائی بہن) 24 29
33 (۴) احوالِ زوج(شوہر) 25 29
34 عورتوں کا بیان 25 1
35 (۵)احوال زوجہ (بیوی) 25 34
36 (۶) احوال بنت (بیٹی) 25 34
37 (۷) احوال بنت الابن(پوتی) 26 34
38 مسئلۂ تشبیب 27 34
39 (۸)احوا ل اخت لاب وام(عینی بہن) 28 34
40 (۹)احوال اخت لاب(علاتی بہن) 29 34
41 (۱۰) احوالِ امّ (ماں ) 30 34
42 (۱۱) احوالِ جدۂ صحیحہ(دادی، نانی) 31 34
43 عصبات کا بیان 33 1
44 عصبہ بنفسہ کی چار قسمیں 33 43
45 حجب کابیان 34 1
46 محروم اصطلاحی اور محجوب میں فرق 35 45
47 امثلۂ مخارجِ فروض 37 1
48 عول کا بیان 37 1
49 اعداد کے درمیان نسبتوں کا بیان 39 1
50 تصحیح کا بیان 40 1
51 ہر فردوفریق کے ما بین تقسیم ترکہ کا بیان 44 1
52 قرض خواہوں کے ما بین تقسیم ترکہ کا بیان 44 1
53 ترکہ میں کسر کا عمل 45 1
54 تخارج کا بیان 46 1
55 رد کا بیان 47 1
56 مناسخہ کا بیان 50 1
57 ذ وی الارحام کا بیان 52 1
58 احوال کو از بر کرنے کے لیے جیبی نسخہ 53 1
59 آیات قرآنیہ در باب میراث 54 1
Flag Counter