کیا ہو جو دوسرے کی تصدیق کیے بغیر محض اُس کے اقرار سے ثابت نہ ہو(۱)۔
(۹) موصیٰ لہ بجمیع المال
جس موصیٰ لہ بجمیع المال کو دیگر مستحقین کے شرعی حق کی بنا پر اولاً صرف ثلث دیا گیا تھا، اب مذکورہ بالا مستحقین میں سے کسی کے نہ ہونے کے وقت باقی دو ثلث بھی اُسی کو دے دیا جائے گا۔
(۱۰) بیت المال یا رد علیٰ الزوجین
اگر مذکورۂ بالا مستحقین میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پورا مال بیت المال (اسلامی خزانہ)میں جمع کیا جائے گا، (جس سے نادار مریضوں کی دوا، لقیط کا نان نفقہ، جنایت کی دیت اور لا وارث نادار مُردوں کی تجہیزو تکفین کے کام کیے جائیں گے۔)
فائدہ:متأخرین علمانے جب دیکھا کہ فی زماننا نہ تو کوئی شرعی بیت المال موجود ہے، اور نہ اِس قسم کے اموال کو شرعی مصارف میں صَرف کیاجاتا ہے؛ اِس لیے اگر زوجین میں سے کوئی ایک موجود ہو، اور اُن کے حصے سے باقی ماندہ مال کے لیے مستحقینِ مذکورۂ بالا میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو، تو بہ جائے بیت المال کے
(۱) مثلاً میت نے زید کے متعلق اپنے بھائی یا چچا ہونے کا اقرار کر لیا-بہ شرطے کہ زید مجہول النسب شخص تھا- توچوں کہ میت زید کو اپنے باپ یا دادا کے نسب میں داخل کرنا چاہتا ہے، اور یہ محض اُس کے اقرار سے نہیں ہوسکتا؛ البتہ انسان اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتا ہے؛ اِس لیے اگر یہ میت بعدِ اقرار تا حیات اپنے اقرار پر بر قرار رہا، اور غیر (باپ، دادا) نے مُقِر (میت) کی تصدیق نہیں کی تھی، تو اگرمذکورہ بالامستحقین میں سے کوئی نہ ہو تو سارا مال مُقَر لہ بالنسب علیٰ الغیر کو ملے گا۔