راہ سلوک میں وفا داری کی اہمیت |
ہم نوٹ : |
|
فرشتوں کو نبی نہ بنانے کی حکمت اسی لیے بخاری شریف کی حدیث ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نظر بازی آنکھوں کا زِنا ہے۔ اس کو معمولی گناہ نہ سمجھو۔ تمام پیغمبروں کو عالم نفسیات بنایا جاتا ہے، وہ نفسیات کے ماہر ہوتے ہیں، کیوں کہ اُمتّیوں کی اصلاح کرتے ہیں، اسی لیے فرشتوں کو پیغمبر نہیں بنایا گیا کیوں کہ یہ ہمارے نفوس کے ماہر نہیں ہوتے، ان میں کسی قسم کا مادّہ نفسانی ہی نہیں ہوتا، چوں کہ فرشتے ماہرِ نفسیات نہیں ہوتے اس لیے ان کو پیغمبر نہیں بنایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ 4؎ بدنظری آنکھوں کا زِنا ہے۔ یہاں النَّظَرُ مبتدا ہے اور زِنَا الْعَیْنِ خبر ہے، لیکن خبر کو مقدم فرما کہ اہمیت ظاہر کر دی تاکہ میرے امتی ڈرجائیں کہ آنکھوں کا زِنا ہے بدنظری۔ بندوں پر اللہ تعالیٰ کے دو حق میں اپنے ان دوستوں سے عرض کرتا ہوں جو سلسلہ میں داخل ہیں اور ان کی رات دن یہی فکر ہے کہ ہم اللہ والے بن جائیں لیکن اگر وہ آنکھوں کی حفاظت نہ کریں تو یہ غم کی بات ہے یا نہیں؟ مرید کے کیا معنیٰ ہیں؟ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ 5؎ لوگ کہتے ہیں پیری مریدی قرآن و حدیث سےثابت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر خالی یُرِیۡدُ نازل ہوتا تب تو ایک ہی مرید ثابت ہوتا لیکن یہاں تو یُرِیۡدُوۡنَ ہے یعنی جمع ہے اور یہ اللہ کا جمع ہے، اللہ کی ذات غیر محدود ہے تو اس کا جمع بھی غیر محدود ہوگا لہٰذا اس میں غیر محدود مرید داخل ہیں۔ یُرِیۡدُوۡنَ معنیٰ میں مُرِیۡدُوۡنَ کے ہے یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرتے ہیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کے دو حق ثابت ہوگئے، ایک یہ کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نا خوش ہوں ان سے بچو،دوسرا یہ کہ جن باتوں سے خوش ہوں ان کو کرو۔ _____________________________________________ 4؎صحیح البخاری: 923،922/2 (6275)، باب زناالجوارح دون الفرج،المکتبۃ المظہریۃ 5؎الکہف:28