Deobandi Books

راہ سلوک میں وفا داری کی اہمیت

ہم نوٹ :

9 - 50
فرشتوں کو نبی نہ بنانے کی حکمت
اسی لیے بخاری شریف کی حدیث ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نظر بازی آنکھوں کا زِنا ہے۔ اس کو معمولی گناہ نہ سمجھو۔ تمام پیغمبروں کو عالم نفسیات بنایا جاتا ہے، وہ نفسیات کے ماہر ہوتے ہیں، کیوں کہ اُمتّیوں کی اصلاح کرتے ہیں، اسی لیے فرشتوں کو پیغمبر نہیں بنایا گیا کیوں کہ یہ ہمارے نفوس کے ماہر نہیں ہوتے، ان میں کسی قسم کا مادّہ نفسانی ہی نہیں ہوتا، چوں کہ فرشتے ماہرِ نفسیات نہیں ہوتے اس لیے ان کو پیغمبر نہیں بنایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ4؎ بدنظری آنکھوں کا زِنا ہے۔ یہاں النَّظَرُ مبتدا ہے اور زِنَا الْعَیْنِ خبر ہے، لیکن خبر کو مقدم فرما کہ اہمیت ظاہر کر دی تاکہ میرے امتی ڈرجائیں کہ آنکھوں کا زِنا ہے بدنظری۔
بندوں پر اللہ تعالیٰ کے دو حق
میں اپنے ان دوستوں سے عرض کرتا ہوں جو سلسلہ میں داخل ہیں اور ان کی رات دن یہی فکر ہے کہ ہم اللہ والے بن جائیں لیکن اگر وہ آنکھوں کی حفاظت نہ کریں تو یہ غم کی بات ہے یا نہیں؟ مرید کے کیا معنیٰ ہیں؟یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ5؎  لوگ کہتے ہیں پیری مریدی قرآن و حدیث سےثابت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر خالی یُرِیۡدُ نازل ہوتا تب تو ایک ہی مرید ثابت ہوتا لیکن یہاں تو یُرِیۡدُوۡنَ ہے یعنی جمع ہے اور یہ اللہ کا جمع ہے، اللہ کی ذات غیر محدود ہے تو اس کا جمع بھی غیر محدود ہوگا لہٰذا اس میں غیر محدود مرید داخل ہیں۔
یُرِیۡدُوۡنَ معنیٰ میں مُرِیۡدُوۡنَ کے ہے یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرتے ہیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کے دو حق ثابت ہوگئے، ایک یہ کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نا خوش ہوں ان سے بچو،دوسرا یہ کہ جن باتوں سے خوش ہوں ان کو کرو۔
_____________________________________________
4؎    صحیح البخاری: 923،922/2 (6275)، باب زناالجوارح دون الفرج،المکتبۃ المظہریۃالکہف:28
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حفاظتِ نظر کا حکم بندوں کو براہِ راست نہ دینے کا راز 7 1
3 حفاظتِ نظر خواتین پر بھی فرض ہے 8 1
4 نظر کی حفاظت میں شرم گاہ کی حفاظت مضمر ہے 8 1
5 فرشتوں کو نبی نہ بنانے کی حکمت 9 1
6 بندوں پر اللہ تعالیٰ کے دو حق 9 1
7 آیت اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌ بِۢمَا یَصۡنَعُوۡنَ كی عالمانہ شرح 10 1
8 حفاظتِ نظر سے حفاظتِ سلطنتِ ایمانی کا تعلق 11 1
9 حفاظتِ نظر اور حفاظتِ امانتِ الٰہیہ کا ربط 11 1
10 فصاحتِ کلام حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان معجزہ 12 1
11 اولاد پر نزولِ رحمت کے حصول کا طریقہ 13 1
12 حفاظ اور علماء کرام پر بھی حصولِ تقویٰ فرض ہے 14 1
13 اللہ کا راستہ طے کرنے کا آسان طریقہ 15 1
14 دوسرے شیخ سے تعلق قائم کرنے پر دُہرا اجر ملتا ہے 16 1
15 اہل اللہ کی صحبتِ دائمی پر عجیب و غریب استدلال 16 1
16 مولانا رشید احمد گنگوہی کا ایک دلچسپ واقعہ 17 1
17 مولانا ماجد علی جونپوری کی مولانا رشید احمد گنگوہی سے بیعت 19 1
18 اردو زبان میں دین کا عظیم الشان ذخیرہ ہے 19 1
19 گناہوں سے بچنے کا غم ایمان کو تازہ کرتا ہے 20 1
20 دین کی خدمت میں مشغول علماء کے لیے مشایخ کا عمل 22 1
21 عشقِ مجازی کی آخری منزل خبیث مقامات ہیں 22 1
22 نظر کی حفاظت پر اللہ کی تجلّیات کے جلوے 23 1
23 دلِ شکستہ کی تسلی کے لیے ایک الہامی مضمون 24 1
24 اہل اللہ سے وفاداری پر استقامت کا مجاہدہ 25 1
26 اسبابِ حصولِ معیتِ الٰہیہ 26 1
27 اشعار کی شرعی حیثیت 28 1
28 اُمّی صحابہ کا فصیح و بلیغ کلام 29 1
29 یَصْنَعُوْنَ کی چار تفسیریں 30 1
30 یَصۡنَعُوۡنَ کی پہلی تفسیر 30 29
31 یَصۡنَعُوۡنَ کی دوسری تفسیر 32 29
32 یَصۡنَعُوۡنَ کی تیسری تفسیر 32 29
33 یَصۡنَعُوۡنَ کی چوتھی تفسیر 33 29
35 نسبتِ اولیاء سے محرومی کاسبب 33 1
36 نسبتِ اولیاء کے حصول کاسبب 34 1
37 قلوبِ اولیاء سے منتقلیِ نسبت کی تمثیل 35 1
38 قلوبِ اولیاء سے منتقلیِ نسبت کی تمثیل 35 1
39 انقیادِ شیخ مفتاحِ راہِ سلوک ہے 36 1
40 اصل سلوک اتباعِ شریعت ہے 38 1
41 عشقِ مجازی سے نجات کے تین مراقبے 38 1
42 عشقِ مجازی سے نجات کا پہلا مراقبہ 38 41
44 عشقِ مجازی سے نجات کا دوسرا مراقبہ 40 41
45 عشقِ مجازی سے نجات کا تیسرا مراقبہ 42 41
46 بدنظری خدا کی رحمت سے دوری کا سبب 42 1
47 خدا پر فدا ہونے والا فنا نہیں ہوتا 43 1
48 حیاتِ اولیاءمٹی کے کھلونے پر ضایع نہیں ہوتی 44 1
Flag Counter