راہ سلوک میں وفا داری کی اہمیت |
ہم نوٹ : |
|
سے ہمیں بچالے اور اپنی ذات پر ہم کو فدا ہونے کی ہر لمحۂ حیات، ہر سانس سعادت نصیب فرما اور اپنے راستے کا غم، زخمِ حسرت اور گناہ سے بچنے کا غم، نظر بچانے کا غم ہمارے لیے اتنا لذیذ کردے کہ وہ حاصلِ دو جہاں معلوم ہو، اللہ تعالیٰ اپنی توفیقات سے جملہ احباب کو اور میرے گھر والوں کو اور آپ کے گھر والوں کو توفیق دے اور ہمیں اولیائے صدیقین کی منتہیٰ تک پہنچا دے۔ نسبتِ اولیاء کے حصول کاسبب یہ مضمون پورا ہوگیا۔ اب کوئی اور مضمون یادمت دلاؤ کیوں کہ بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ جو مضمون دل میں ڈال دے وہی آپ کے لیے مفید ہے کیوں کہ روحانی دسترخوان اللہ تعالیٰ دیتا ہے جیسے ماں باپ کو بچوں کے لیے روٹی بھی وہی دیتا ہے کہ یہ بچے چھوٹے ہیں تم میری طرف سے ان کی پرورش کرو، حقیقی پالنے والا تو میں ہوں تم صرف متولی ہو، رزق میں دوں گا بچوں کو تم کھلاؤ۔ جو لوگ کسی اﷲ والے سے مرید ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تربیت کے لیے ان کے شیخ کو روحانی رزق بھی دیتا ہے ؎ چناں مست ساقی کہ مے ریختہ اللہ تعالیٰ جس مضمون کی بارش کردے اسے ہی اللہ کی مہربانی سمجھو۔ جس کو موقع ملے وہ نماز کے بعد بھی میرے پاس بیٹھ جائے، غنیمت جان لو مل بیٹھنے کو مبادا یہ وقت آئے نہ آئے۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات پر ایمان لاؤ، فرماتے ہیں کہ جس بزرگ نے یہ کہا ہے ؎ یک زمانہ صحبتے بااولیاء بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا اللہ والوں کے پاس بیٹھنا سو برس کی اخلاص کی عبادت سے افضل ہے۔جس بزرگ نے یہ شعر کہا ہے تو انہوں نے سو سال کم فرمائے ہیں ورنہ اصل تو یہ ہے ؎ یک زمانہ صحبت بااولیاء بہتر از لکھ سالہ طاعتِ بے ریا اللہ والوں کے پاس تھوڑی دیر بیٹھنا ایک لاکھ سال کی عبادت سے افضل ہے کیوں کہ صحبتِ شیخ