فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
باز شاخے را موصّل می کنی شاخ دیگر را معطل می کنی مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ ایک شاخ کو تو آپ درخت سے جوڑ دیتے ہیں اور دوسری شاخ کو قطع کردیتے ہیں، یعنی جس پر آپ کا فضل ورحمت اور مشیت ہوتی ہے جو آیتِ پاک میں مذکور ہے، اس کو آپ اپنے سے ملالیتے ہیں، اپنا قُرب عطا فرماتے ہیں یعنی اس کا تزکیہ فرمادیتے ہیں اور جس پر آپ کا فضل اور آپ کی رحمت اور آپ کی مشیت نہیں ہوتی اس کا کبھی تزکیہ نہیں ہوتا اور مثل شاخ بُریدہ کے وہ آپ کے گلستانِ قُرب سے محروم کردیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کی تکوینی مشیت ایک کو مقبول اور ایک کو مردود کرتی ہے۔ اسی کو صاحبِ گلزار ابراہیم فرماتے ہیں ؎ کعبہ میں پیدا کرے زندیق کو لاوے بت خانے سے وہ صدیق کو زادۂ آزر خلیل اللہ ہو اور کنعاں نوح کا گمراہ ہو اہلیہ لوط نبی ہو کافرہ زوجۂ فرعون ہو وے طاہرہ دیر کو مسجد کرے مسجد کو دیر غیر کو اپنا کرے اپنے کو غیر فہم سے بالا خدائی ہے تری عقل سے بر تر خدائی ہے تری شاخ را بر تیشہ دستی ہست نے ہیچ شاخ از دستِ تیشہ رست نے مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ شاخوں کو تیشہ پر کوئی قدرت نہیں کہ وہ تیشہ کو مجبور کرسکیں کہ