فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
سے نظامِ عالم چلتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن در حقیقت اسباب کے پردے میں ان ہی کا دستِ قدرت کار فرما ہے، اس لیے حکم ہے کہ تدابیر واسباب کو اختیار کرو لیکن ان کو مؤثر بالذات نہ سمجھو۔ اسباب کو اختیار کرکے اعتماد اللہ تعالیٰ پر کرو کہ اگر وہ چاہیں گے تو ان تدابیر واسباب میں اثر ڈال دیں گے اور اگر نہ چاہیں گے تو یہ اسباب ہمارا کام نہیں بناسکتے ۔ اسی لیے ایک صحابی نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)!میں نے اللہ کےبھروسے پر اُونٹ کو کھلا چھوڑ دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُونٹ کو رسّی سے باندھو، پھر رسّی پر بھروسہ نہ کرو، اللہ پر بھروسہ کرو۔ اسی کو مولانا رُومی نے فرمایا ؎ گفت پیغمبر بہ آواز ِ بلند بر توکل زانوئے اشتر بہ بند ترجمہ : پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بھروسے پر اُونٹ کو رسّی سے باندھ دے، لیکن رسّی پر بھروسہ نہ کر۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی روشنی میں توکّل کی شرعی تعریف یہ ہے: تَرْکِیْبُ الْاَسْبَابِ دُوْ نَ الْاِعْتِمَادِ وَالْاِعْتِمَادُ عَلَی اللہِ۔ اسباب کو اختیار کرنا لیکن ان پر اعتماد نہ کرنا اور اعتماد اللہ تعالیٰ کی ذات پر کرنا۔ إ إ إ إ