فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
عقل کہتی ہے کہ تم اسباب پر اُڑو اور عشق کہتا ہے کہ سبب کے پیدا کرنے والے پر نظر رکھو ۔ اسباب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت کے تابع ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں اسباب میں اثر پیدا کردیتے ہیں اور اسباب کے مطابق نتیجہ بر آمد ہوجاتا ہے اور جب ان کی مشیت نہیں ہوتی تو اسباب کو بے اثر کردیتے ہیں اور باوجود اسباب کے مقصود حاصل نہیں ہوتا اور اس کی ایک مثال دیتا ہوں، بہت عجیب علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا کہ روٹی سبب ہے پیٹ بھرنے کا اور پانی سبب ہے پیاس بجھانے کا، لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں تو ان اسباب کو بے اثر کردیتے ہیں۔ ایک مرض ہے جس کا نام طبِ یونانی میں ’’جوع البقر‘‘ ہے جس میں یہ ہوتا ہے کہ چاہے کتنی ہی روٹیاں کھاتے چلے جاؤ لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔اور ایسے ہی ایک اور مرض ہے جس کا نام ’’استسقاء‘‘ ہے جس میں آدمی پانی پیتے پیتے مرجاتا ہے لیکن پیاس نہیں بجھتی چاہے ایک حوض پانی پی لے ۔ اگر اسباب مؤثر بالذات ہوتے تو روٹیاں ہمیشہ بھوک کو سیر کردیتیں اور پانی ہمیشہ پیاس کو بجھادیتا۔ معلوم ہوا کہ اسباب اپنی تاثیر میں حق تعالیٰ کی قدرتِ قاہرہ سے مستغنی نہیں ہوسکتے۔ اسبابِ اپنی صفات کے مَظہر ہیں، لیکن ہر مَظہر اپنی صفتِ مَظہریت کے ظہور میں ہر وقت محتاج ہے مظہِر کا یعنی اللہ تعالیٰ کا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی شانِ مظہریت اثر انداز نہ ہوگی تو اسباب کی مظہِریت مؤثر نہیں ہوسکتی۔ جیسے برف صفتِ برودت اور ٹھنڈک کا مَظہر ہے اور آگ صفتِ حرارت کی مَظہر ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے نارِنمرود کو حکم دیا کہ یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ؎ تو آگ نے اپنی صفتِ حرارت چھوڑدی اور ٹھنڈی ہوگئی اور بجائے جلانے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آرام پہنچانے لگی۔ معلوم ہوا کہ تمام اسبابِ عالم مُسبِّبِ حقیقی کے تابع ہیں، اس لیے اسباب پا کر مُسبِّب سے بے خبر اور مستغنی نہ ہو۔ اسباب تو اختیار کرو کیوں کہ دنیا دار الاسباب ہے،ان اسباب کے پردے ہی میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو چھپالیا، ورنہ نظامِ عالَم درہم برہم ہوجاتا اور عالَم ِغیب عالَمِ غیب نہ رہتا۔ اب بظاہر اسباب ------------------------------