فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
اے خدا!اگر آپ چاہیں تو آگ ٹھنڈا پانی بن سکتی ہے اور آپ نہ چاہیں تو پانی بھی آپ کے حکم سے آگ بن سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ چاہیں تو شر کو خیر بنادیں اور نہ چاہیں تو اسبابِ خیرپر خیر مرتب نہ ہو اور خیر شربن جائے۔ کوہ و دریا جملہ در فرمانِ تست آب و آتش اے خداوند آن ِتست اے خدا! پہاڑ اور سمندر آپ کے تابع اور آپ کے زیرِفرمان ہیں اور آگ اور پانی سب میں آپ کی مختلف شانوں کا ظہور ہے۔ در عدم کے بود ما را خود طلب بے طلب کردی عطا ہائے عجب اے اللہ! عدم میں ہمارا وجود نہ تھا، ہمارے پاس زبان نہ تھی جس سے ہم مانگتے، لیکن بغیرطلب کے اور بغیر مانگے ہوئے آپ نے اپنی عطاؤں کے خزانے ہم پر برسادیے۔ عالمِ عدم میں جبکہ ہمارےجسم وجان ہی نہ تھے تو ہم آپ سے یہ سوال کیسے کرتے کہ ہمیں وجود عطا فرمائیے، لیکن آپ کے کرم نے بغیر سوال ہمیں وجود عطا فرمایا اور بدون سوال ہمیں انسانی قالب عطا فرمایا۔ آپ اگر چاہتے تو ہمیں کتّے سور اور گدھے کے قالب میں پیدا کرسکتے تھے، لیکن آپ کے کرم نے بغیرسوال اور بغیر طلب کے اشرف المخلوقات کے قالب میں پیدا فرمایا یعنی انسان بنایا اور پھراے اللہ! آپ نے کرم بالائے کرم یہ فرمایا کہ ہمیں کسی کافر یا مشرک کے گھر نہیں پیدا فرمایا اور مسلمان گھرانے میں پیدا فرما کر ایمان جیسی عظیم الشان دولت مفت میں عطا فرمادی جس کے آگے زمین وآسمان کے تمام خزائن اور ساری دنیا کی مجموعی نعمتیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں، ایمان عطا فرما کر گویا جنت کا ٹکٹ آپ نے بے مانگے عطا فرمادیا ۔ اے اللہ! اگر آپ ہمیں ایمان نہ عطا فرماتے تو ہم کس قدر عظیم خسارے میں پڑجاتے کہ اگر ہفت اقلیم کی بادشاہت بھی ہمیں مل جاتی لیکن کفر وشرک کے سبب کتے اورسور سے بھی ہم بدتر ہوتے اور مرنے کے بعد دائمی عذاب میں مبتلا ہوجاتے۔ اور اے اللہ! اگر آپ کی مدد نہ ہوتی تو ہم بُری