فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اے اللہ! آپ کریم العفو ہیں یعنی معاف کرنے میں نہایت کریم ہیں۔ آپ کے نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ بشارت دی کہ اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہٗ بِاللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہٗ بِالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْئُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا؎ اللہ تعالیٰ کی رحمت رات بھر اپنے ہاتھ پھیلائے رہتی ہے کہ دن کا خطا کار رات کو توبہ کرلے اور دن بھر ہاتھ پھیلائے رہتی ہے کہ رات کا خطا کار دن میں توبہ کرلے۔ سبحان اللہ! کیا رحمت ہے آپ کی بندوں پر کہ ایک کروڑ گناہ بھی اگر کوئی کرلے، لیکن ندامت کا ایک آنسو کبھی نکل آیا، دل میں ندامت پیدا ہوگئی کہ آہ! میں نے کیا کیا تو اسی وقت تمام گناہوں کو آپ معاف فرمادیتے ہیں۔سو برس کا کافر جو رات دن کفر کررہا تھااگر کلمہ پڑھ لے تو اسی وقت ولی اللہ ہوجاتا ہے میرے شیخ حضرت شاہ عبد الغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ سنایا تھا کہ ایک ہندو نوے برس تک اپنے بُت کو صنم صنم پکار رہا تھا کہ ایک دن غلطی سے اس کے منہ سے صمد نکل گیا تو آواز آئی:لَبَّیْکَ یَا عَبْدِیْمیرے بندے میں حاضر ہوں۔تو اس کافر نے ڈنڈا اُٹھایا اور سب بُتوں کو توڑ دیا کہ نوے سال تک میں نے تمہیں پکارا اور تم نے کوئی جواب نہیں دیا اور آج غلطی سے مسلمانوں کے خدا کا نام نکل گیا تو فورا ً جواب آگیا لبیک میرے بندے میں موجود ہوں۔ سبحان اللہ ! تو عفو کرنے میں آپ بے حد کریم ہیں کہ نوے برس کے کافر کو بھی نہیں بھولتے اور ایک لمحے میں معاف فرما کر اپنا پیارا بنالیتے ہیں۔ اور آپ حَیٌّ لَمْ یَزَلْ ہیں یعنی زندہ حقیقی ہیں کہ ہمیشہ سے زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آپ کی حیات میں کبھی زوال نہیں آسکتا بلکہ ہر وقت آپ کی ایک نئی شان ہے۔ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ علامہ آلوسی ’’روح المعانی‘‘ میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں یوم سے ------------------------------