Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

203 - 290
اور کریم کی تیسری تعریف ہے :
اَلَّذِیْ لَایَخَافُ نَفَادَ مَا عِنْدَہٗ؎ ایسا مہربانی کرنے والا جس کو اپنے خزانوں کے ختم ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ اورذُوالْجَلَالِ کےمعنیٰ ہیں: صَاحِبُ الْاِسْتِغْنَاءِ الْمُطْلَقِِ یعنی سارے عالَم سے بے نیاز اور وَالْاِکْرَامِکےمعنیٰصَاحِبُ الْفَیْضِ الْعَامِ؎  جس کا فیض سارے عالَم پر عام ہے ۔ دنیا کے لوگ مستغنی تو ہوتے ہیں لیکن کسی کے دُکھ درد میں کام نہیں آتے بس اپنے ہی حلوے مانڈے میں مست ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ذُوالْجَلَالِ کے بعد وَالْاِکْرَامِ کا اسم نازل کردیا کہ اگر چہ میں سارے عالم سے مستغنی ہوں، لیکن میں صاحبِ فیض عام بھی ہوں کہ سارے عالم پر میرا فیض عام ہے۔ میرے استغنا کی شان یہ ہے: 
اَلْمُسْتَغْنِیْ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ وَّالْمُحْتَاجُ اِلَیْہِ کُلُّ اَحَدٍ ؎
کہ میں سارے عالم سے مستغنی ہوں اور سارا عالم میرا محتاج ہے لیکن اس کے باوجود میں اپنے بندوں سے غافل نہیں سارے عالم پر میری رحمت عام ہے۔
مولانا رُومی اس کو فرماتے ہیں کہ اے اللہ! باوجود ذوالجلال ہونے کے آپ دائم المعروف ہیں، اتنے بڑے مہربان ہیں کہ اپنی مخلوق پر ہمیشہ احسان کرنے والے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم سے ناراض ہو کر آپ نے سورج کو روک لیا ہو کہ ہم پر طلوع نہ ہو یا چاند کو روک لیا ہو کہ ہمیں اوقات نہ بتائے ۔ آپ کا نظامِ کرم ہمیشہ مخلوق پر دائم ہے اور آپ ساری کائنات کے مالک ہیں، ساری کائنات کے نظام کو قائم کیے ہوئے ہیں، سارے عالم کو سنبھالے ہوئے ہیں      ؎
یَا   کَرِیْمَ    الْعَفْوِ  حَیٌّ  لَمْ   یَزَلْ
یَا    کَثِیْرَ  الْخَیْرِ   شاہ     بے   بدل
------------------------------

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter