فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس جنگ میں جو نفس سے جیت گیا اور آپ کی نافرمانی چھوڑ دی وہی اللہ والا ہوجاتا ہے اور جو ہار گیا وہ فاسق ہوجاتا ہے، لہٰذا خیر وشر کی کشمکش کے اس امتحان میں ہمیں پاس کردیجیے کہ ہم نیکی پر قائم رہیں اور گناہ سے بچتے رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم نیکی تو کرلیں اور گناہ نہ چھوڑیں یعنی آپ کو راضی کرنے کی فکر تو کریں اور آپ کی ناراضگی سے نہ بچیں تو بھی ہم ناکام ہوجائیں گے، لہٰذا اس تردّد اورخیر وشر کی جنگ میں ہمارا انجام بخیر کردیجیے اور ہمیں نفس کے مقابلے میں جتادیجیے یعنی اپنی مرضی پر جما کے رکھیے اور اپنی ناراضگی سے بچا کے رکھیے اور گناہوں کے شدید تقاضوں پر غالب کرکے اے خد۱!ا ٓٓپ ہماری جان کو خوش کردیجیے، کیوں کہ جان کو خوشی آپ کی عبادت اور فرماں برداری سے ملتی ہے اور آپ کی نافرمانی سے روح کبھی خوش نہیں ہوتی۔ گناہ کرتے وقت جو مزہ آتا ہے وہ نفس دشمن کو آتا ہے ، رُوح اس وقت بے چین ہوتی ہے، اسی لیے مومن کو گناہ کا پورا مزہ نہیں آتا ، اس کا دل کانپتا رہتا ہے کہ میں یہ کیا کررہا ہوں ، خدا دیکھ رہا ہے، اور نفس کا مزہ ایسا ہے جیسا کسی کو نشہ پلا کر پٹائی کردی جائے تو نشے میں پٹائی کا احساس نہیں ہوتا، لیکن جب نشہ اُترتا ہے اس وقت بے چینی کا ادراک ہوتا ہے کہ ہائے! میں نے اللہ کو ناراض کردیا۔ اس بے چینی اور عذاب کا لغت والفاظ احاطہ نہیں کرسکتے ۔ نفس کے نشے سے اللہ پناہ میں رکھے۔ لہٰذا اے اللہ! ہماری عاقبت کو خیر کردیجیے اور خاتمہ ایمان پر فرمادیجیے، تاکہ آپ ہم سے خوش ہوجائیں اور ہماری جان کو خوش کردیجیے اور جان کب خوش ہوتی ہے ؟ جب نفس کی لڑائی میں غالب آجاتی ہے۔ جیسے پہلوان اس وقت خوش ہوتا ہے جب دشمن کو پچھاڑ دیتا ہے، پس نفس دشمن پر ہماری رُوح کو غالب کردیجیے۔ یہاں میں ایک بات کہتا ہوں کہ مثنوی کو صرف لغت سے نہیں سمجھ سکتے، مثنوی کو بغیر درد بھرے دل کے کوئی پڑھا بھی نہیں سکتا۔ مثنوی وہی پڑھا سکتا ہے جس نے اللہ والوں کی جوتیاں اُٹھائی ہوں، اللہ کے راستے میں چلا ہو، سینے میں درد بھرا دل رکھتا ہو، کیوں کہ مولانا رومی نے مثنوی میں سلوک بیان کیا ہے ۔ پس جس نے نفس سے جنگ نہیں لڑی اور نفس کا غلام ہے وہ کیا جانے مثنوی کو۔