فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
بیچنا ہے اور اپنے کو اللہ کا مجرم بنانا ہے، لہٰذا جو اللہ ہمارا خریدار ہے اور خریدار بھی کیسا کہ جو ایک پھول کے بدلے میں گلستاں دیتا ہے، ایسے کریم مالک کے ہاتھ جب ہم بک چکے تو اب اسی کی مرضی پر جینا اور اسی کی مرضی پر مرنا ہے ۔ احقر کے دو شعر ؎ خوشی پر ان کی جینا اور مرنا ہی محبت ہے نہ کچھ پروائے بدنامی نہ کچھ پروائے عالم ہے ہے رُوحِ بندگی بس ان کی مرضی پر فدا ہونا یہی مقصودِ ہستی ہے یہی منشائےعالم ہے اسی کو مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ اے اللہ! ہم عاجزوں اور پسماندوں کو خرید لیجیے، اپنی طرف جذب فرمالیجیے، پھر کون ہے جو ہمیں آپ سے چھین سکے ؎ زیں تردّد عاقبت ما خیر باد اے خدا مر جان ما را کن تو شاد ارشاد فرمایا کہ مولانا جلال الدین رُومی خدائے تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ خیر وشر کے درمیان جو آپ نے ہم کو اختیار دیا ہے تو اس تردّد بین الامر ین یعنی نیکی اور گناہ کے تقاضوں کی کشمکش کا انجام ہمارے لیے بہتر کردیجیے یعنی ہماری رُوح چاہتی ہے کہ ہم نیک کام کرکے اللہ والے بن جائیں اور نفس گناہوں کا تقاضا کرتا ہے کہ وی سی آر،سینما، ٹیلی وژن اور تمام گندے کام کریں۔ ان دونوں میں ہمیشہ کشمکش رہتی ہے ۔ پس اے اللہ! آپ نے ہمارا دو پرچوں میں امتحان رکھا ہے ، ایک پرچہ ہے نیک کام کرنے کا اور دوسرا پرچہ ہے گناہ سے بچنا یعنی ایک مثبت عبادت ہے اور دوسری منفی عبادت ہے ۔ نماز روزہ حج وعمرہ ذکر وتلاوت یہ مثبت عبادت ہے اور جب گناہ کا تقاضا ہو مثلاً کوئی نامحرم عورت سامنے جائے اس وقت نظر نیچی کرلینا یہ منفی عبادت ہے اور اللہ کا ولی وہی ہوتا ہے جو دونوں قسم کی عبادت کرتا ہے ۔ اکثر لوگ وظیفہ وتسبیح ونوافل تو پڑھتے ہیں، لیکن گناہ سے نہیں بچتے اور روح ونفس کی کشمکش میں نفس ان پر غالب آجاتا ہے ۔ اسی لیے مولانا رُومی