فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
کے علاوہ کچھ نہیں ہے، لہٰذا میں گناہوں کے ظلم اور معرفت سے جہل کی گٹھڑی لایا ہوں، بس آپ مجھے معاف فرمادیجیے۔ آہ! عشق کی عجیب شان ہے کہ محبوب کی رضا کے لیے اپنی طاقت کی بھی پروا نہیں کرتا اور اس کے حکم پرلبیک کہہ کر فوراً پابجولاں دوڑ پڑتا ہے، لیکن جب خطا ہوتی ہے تو اقرارِ خطا کرکے معافی مانگتا ہے اور خطا نہ بھی ہو تو بھی عاشق کو محبوب سے معافی مانگنے میں مزہ آتا ہے ۔ جیسے قصہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے ایک عاشق خادم کو حکم دیا کہ دریا میں کود جا لیکن لباس گیلا نہ ہو، خادم فوراً کود پڑا اور جب واپس آیا تو بادشاہ نے ڈانٹا کہ نالائق لباس کیوں گیلا کیا؟ خادم نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ حضور! خطا ہوگئی۔ آہ ! اس سے اللہ کی راہ کا ادب سیکھو کہ اللہ کی محبت سکھانے والے کا کتنا ادب کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ جو ہمارا خالق ومالک ہے ان کا ہم پر کیا حق ہے ۔ اسی کو خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ خطا تو درکنار عاشق تو صورتِ خطا بلکہ عدمِ خطا پر بھی معافی کا طلب گار ہوتا ہے اور خود کو مستحقِ سزا سمجھتا ہے۔ فرماتے ہیں ؎ ممنونِ سزا ہوں مری ناکردہ خطائیں مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ عشق میں وہ جوش اور وہ کرامت ہے کہ ؎ عشق ساید کوہ را مانند ریگ عشق جوشد بحر را مانندِ دیگ عشق بڑے بڑے پہاڑوں کو پیس کر ریت بنادیتا ہے اور عشق جوش دے کر سمندر کو دیگ کی طرح اُبال دیتا ہے ۔ یہی جوشِ عشق تھا کہ محبوبِ حقیقی تعالیٰ شانہٗ کا ایما دیکھ کر انسان نے اپنی طاقت کو بھی نہ دیکھا اور آسمان وزمین کو بھی نظر انداز کردیا کہ یہ آسمان وزمین کیا چیز ہیں، یہ کیا جانیں محبت کا مزہ ؎ محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر چھیڑا نہیں جاتا اور یہ کیا جانیں آپ کے نام کی لذت کا مزہ ؎