Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

16 - 290
عدالت ہے بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بارگاہِ کبریا میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! میں آپ کی رحمت کی عدالت میں اپنی فریاد داخل کرتا ہوں۔ اورمضمونِ استغاثہ ہے:
اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ
جس میں فریاد کا ایک مثبت اور ایک منفی  مضمون ہے، یعنی اللہ تعالیٰ سے ہر حالت کی اصلاح کی مثبت فریاد ہے اور نفس کے حوالے نہ کرنے کی منفی فریاد ہے، اور دنیوی عدالتوں میں جب مظلوم فریاد کرتا ہے تو مضمونِ استغاثہ طویل ہوجاتا ہے اور پھر بھی کثرتِ الفاظ میں مفہوم قلیل ہوتا ہے لیکن کلامِ نبوت کا اعجاز ہے کہ دو مختصر جملوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جہاں کی حاجتیں پیش فرمادیں، کیوں کہ آپ جَوَامِعُ الْکَلِمْ یعنی کلماتِ جامعہ سے نوازے گئے تھے۔ جَوَامِعُ الْکَلِمْ کے معنیٰ ہیں کہ قلیل الفاظ میں کثیر معانی پنہاں ہوتے ہیں۔ 
فریاد کا مثبت مضمون اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ ہے، یعنی میری ہر حالت کو درست فرمادیجیے، خواہ وہ حالت دنیا کی ہو یا آخرت کی۔ مثلاً: اگر کوئی دشمن ستارہا ہے تو اس کی ایذا  رسانیوں سے نجات دے دیجیے، کوئی جسمانی خطرناک مرض پیدا ہورہا ہے تو اس کو شفا عطا فرمادیجیے ۔ اسی طرح  آخرت کے کاموں میں غفلت ہورہی ہو، نماز روزہ میں سستی ہورہی ہو تو اس کو دور فرمادیجیے، کسی گناہ کی عادت ہو تو اس سے توبہ کی توفیق دیجیے اور تقویٰ کی دولت عطا فرمادیجیے۔ یعنی جسمانی صحت بھی عطا فرمایئے اور رُوحانی صحت بھی عطا فرمائیے اور بگڑی کو بنادیجیےاور اپنے نام کی لذت اور عبادت کی مٹھاس اورایمان کی حلاوت نصیب فرمادیجیے اورکُلَّہٗتاکید ہے یعنی ہماری کوئی حالت ایسی نہ رہنے پائے جس پر آپ اپنی نگاہِ کرم نہ ڈالیں اور ہماری بگڑی کو نہ بنادیں ۔ بس دنیا کی ہر حالت کی درستگی کی اور آخرت کی ہر حالت  کی درستگی کی فریاد اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗکے اس مختصر  سے جملے میں ہے۔ کلامِ نبوت کی جامعیّت کا یہ اعجاز ہے۔
اور استغاثہ کا منفی مضمون وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍہے، اور جس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter