Deobandi Books

فغان رومی

§ہم نوٹ :

15 - 290
اختیار کو غلط استعمال کرجائے گا یعنی اطاعت وفرماں برداری کی شاخ پر بیٹھنے کے بجائے فسق ونافرمانی کی شاخ پر بیٹھ جائے گا کیوں کہ اس کی فطرت آپ نے بیان فرمادی کہ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ؎ہے، لہٰذا اندیشہ ہے کہ نیکی اور بدی کے اختیار میں اپنی فطرت کے سبب یہ بدی کو ہی اختیار کرے گا، لہٰذا اپنے اس ظالم نفس کے خلاف آپ کی عدالتِ عالیہ میں فریاد داخل کررہا ہوں کہ اس نفس نالائق کو آپ مجھ پر اختیار  نہ دیجیے، اس کے اختیارسے مجھ کو خرید لیجیے اور اپنے خاص کرم اور خاص توفیق سے مجھے نیک کاموں پر مضطر کردیجیے۔
دراصل مولانا کا یہ شعر مشکوٰۃِ نبوت سے مستنیر ہے اور اس حدیثِ پاک کی شرح ہے:
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَ حْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ ، اَصْلِحْ لِیْ  شَاْنِیْ کُلَّہٗ، وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ؎
جب دشمن ستاتا ہے تو مظلوم سرکار کی عدالتِ عالیہ میں استغاثہ دائر کرتا ہے اور وہ مُدعِی کہلاتا ہے اور جس کے خلاف استغاثہ دائر ہوتا ہے اس کو مدعیٰ علیہ کہتے ہیں اور فریاد کے مضمون کو استغاثہ کہتے ہیں۔
اس دُعا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی اُمت کو سکھادیا کہ جب تمہیں کوئی ستائے خواہ وہ تمہارا داخلی دشمن نفس ہو یا خارجی دشمن شیطان یا انسان ہو تو تم حیّ و قیّوم کی سرکارِ عالیہ میں اپنا استغاثہ وفریاد داخل کردو، کیوں کہ یہ وہ سرکارِ عالیہ ہے جس کی کائنات میں کوئی مثال نہیں، حق تعالیٰ کی ذات حَییّ ہے:ای اَزَلًا اَبَدًا وَحَیَاۃُ کُلِّ شَیءٍبِہٖ مُؤَبَّدًا یعنی اللہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور اسی سے ہر شے کی حیات قائم ہے اور اللہ قَیُّوْمٌ بھی ہے یعنی قَائِمٌ بِذَاتِہٖ، وَیُقَوِّمُ غَیْرَہٗ بِقُدْرَتِہِ الْقَاھِرَۃِ یعنی جو اپنی ذات سے قائم ہے اور دوسروں کو اپنی صفتِ قیومیت سے سنبھالے ہوئے ہے،  یہ معنیٰ ہیں  حَیٌّی وَقَیُّوْمٌ کے۔
اور جس عدالت میں یہ استغاثہ دائر کیا جارہا ہے وہ حق تعالیٰ کی رحمت کی 
------------------------------

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter