فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اختیار کو غلط استعمال کرجائے گا یعنی اطاعت وفرماں برداری کی شاخ پر بیٹھنے کے بجائے فسق ونافرمانی کی شاخ پر بیٹھ جائے گا کیوں کہ اس کی فطرت آپ نے بیان فرمادی کہ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ؎ہے، لہٰذا اندیشہ ہے کہ نیکی اور بدی کے اختیار میں اپنی فطرت کے سبب یہ بدی کو ہی اختیار کرے گا، لہٰذا اپنے اس ظالم نفس کے خلاف آپ کی عدالتِ عالیہ میں فریاد داخل کررہا ہوں کہ اس نفس نالائق کو آپ مجھ پر اختیار نہ دیجیے، اس کے اختیارسے مجھ کو خرید لیجیے اور اپنے خاص کرم اور خاص توفیق سے مجھے نیک کاموں پر مضطر کردیجیے۔ دراصل مولانا کا یہ شعر مشکوٰۃِ نبوت سے مستنیر ہے اور اس حدیثِ پاک کی شرح ہے: یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَ حْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ ، اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ، وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ؎ جب دشمن ستاتا ہے تو مظلوم سرکار کی عدالتِ عالیہ میں استغاثہ دائر کرتا ہے اور وہ مُدعِی کہلاتا ہے اور جس کے خلاف استغاثہ دائر ہوتا ہے اس کو مدعیٰ علیہ کہتے ہیں اور فریاد کے مضمون کو استغاثہ کہتے ہیں۔ اس دُعا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو سکھادیا کہ جب تمہیں کوئی ستائے خواہ وہ تمہارا داخلی دشمن نفس ہو یا خارجی دشمن شیطان یا انسان ہو تو تم حیّ و قیّوم کی سرکارِ عالیہ میں اپنا استغاثہ وفریاد داخل کردو، کیوں کہ یہ وہ سرکارِ عالیہ ہے جس کی کائنات میں کوئی مثال نہیں، حق تعالیٰ کی ذات حَییّ ہے:ای اَزَلًا اَبَدًا وَحَیَاۃُ کُلِّ شَیءٍبِہٖ مُؤَبَّدًا یعنی اللہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور اسی سے ہر شے کی حیات قائم ہے اور اللہ قَیُّوْمٌ بھی ہے یعنی قَائِمٌ بِذَاتِہٖ، وَیُقَوِّمُ غَیْرَہٗ بِقُدْرَتِہِ الْقَاھِرَۃِ یعنی جو اپنی ذات سے قائم ہے اور دوسروں کو اپنی صفتِ قیومیت سے سنبھالے ہوئے ہے، یہ معنیٰ ہیں حَیٌّی وَقَیُّوْمٌ کے۔ اور جس عدالت میں یہ استغاثہ دائر کیا جارہا ہے وہ حق تعالیٰ کی رحمت کی ------------------------------