فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
مجھ سے طغیانی و فسق و سرکشی تجھ سے بندہ پروری ہوتی رہی لہٰذا اے اللہ! ہماری جفاؤں پر اور ہمارے گناہوں پر نظر نہ فرمائیے کہ آپ کریم ہیں، آپ ہماری اس عمر پر جو گناہوں میں گزر گئی رحم فرمادیجیے۔ دادۂ عمرے کہ ہر روزے ازاں کس نداند قیمتِ آں در جہاں مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! آپ نے ہمیں ایسی زندگی بخشی ہے کہ جس کے ایک روز کی قیمت دنیا میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔ اس کی ایک سانس میں انسان کافر سے مومن ، فاسق سے ولی ، جہنمی سے جنتی بن سکتا ہے اور اگر اس کی قیمت نہ پہچانی اور زندگی کو ضایع کردیا تو موت کے وقت حسرت ہوگی کہ آہ! جس سانس میں ہم اللہ کو راضی کرکے دائمی جنت حاصل کرسکتے تھے اس کو ہم نے دنیا کی عارضی لذتوں میں ضایع کردیا اور موت کے وقت وہ مہلت ختم ہوگئی۔ وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؎ اور اللہ کسی شخص کو ہر گز مہلت نہیں دیتا جبکہ اس کی میعاد )عمر( ختم ہونے پر آجاتی ہے۔ اس وقت اس زندگی کی ایک سانس کی قیمت معلوم ہوگی کہ اگر بادشاہ اپنی ساری سلطنت حضرت عزرائیل علیہ السلام کے قدموں میں ڈال دے کہ مجھے ایک لمحے کی مہلت دے دو تاکہ میں توبہ کرکے اللہ کو راضی کرلوں تو مہلت نہ ملے گی۔ یہ ایسی قیمتی زندگی ہے۔ پس اے اللہ! ہمیں توفیق دے دیجیے کہ ہم آپ کو یاد کرکے اور آپ کو راضی کرکے اور مہلتِ حیات سے پورا پورا فائدہ اُٹھا کر ابدی کامیابی حاصل کرلیں۔ خرچ کردم عمرِ خود را دمبدم در د میدم جملہ را در زیر و بم اے خدا! ایسی قیمتی زندگی کو میں نے زیر وبم یعنی لہو ولعب میں پھونک ڈالا ۔ ------------------------------