فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
اور کرم کی وجہ آپ نے قرآنِ پاک میں بیان فرمائی وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا کہ ان دونوں بچوں کا باپ ہمارا وفادار اور پیارا تھا۔اور یہ باپ کون تھا؟ روایت میں ہے کہ کَانَ الْاَبَ الْسَّابِعَ،وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَلْاَبَ الْعَاشِرَ؎یہ ساتواں باپ تھا اور ایک روایت میں ہے کہ دسواں باپ تھا۔ آہ !آپ کیسے باوفا ہیں کہ جو آپ کا ہوجاتا ہے آپ اس کی دس پشت تک رحمت نازل فرماتے ہیں۔ دنیا میں بھی ہمارے ساتھ ہیں، قبر میں بھی ہمارے ساتھ ہوں گے، میدانِ محشر میں بھی اور پل صراط پر بھی اللہ ہی ساتھ دے گا۔ ہمارا مالک دونوں جہاں کا مالک ہے اور دونوں جہاں میں صرف وہی باوفا ہے۔ اور دنیا کے باعطا بادشاہ اگر مجرموں کو معاف بھی کرتے ہیں تو عدالتِ عالیہ میں اس کا سابقہ ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں تاکہ اگر آیندہ کبھی وہ پھر بے وفائی کرے تو اس کا سابقہ ریکارڈ فرد جرم عائد کرنے میں ثبوت فراہم کرے، لیکن اے اللہ!آپ ایسے باعطا ہیں کہ جس کو معاف کرتے ہیں اس کا سارا ریکارڈ ضایع کردیتے ہیں، تاکہ میرا بندہ قیامت کے دن رُسوا نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اِذَاتَابَ الْعَبْدُ اَنْسَی اللہُ الْحَفَظَۃَ ذُنُوْبَہٗ وَاَنْسٰی ذٰلِکَ جَوَارِحَہٗ وَمَعَالِمَہٗ مِنَ الْاَرْضِ حَتّٰی یَلْقَی اللہَ وَلَیْسَ عَلَیْہِ شَاھِدٌمِّنَ اللہِ بِذَنْبٍ ؎ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کراماً کاتبین سے اس کے گناہوں کو بھلادیتے ہیں اور اس کے جوارح یعنی اعضائے جسم جو اس کے خلاف گواہی دیتے ان کو بھی بھلادیتے ہیں اور جس زمین پر اس نے گناہ کیا تھا ( اور وہ زمین اس کے خلاف گواہ ہوتی ) اس زمین سے بھی اس کے گناہوں کے نشانات کو مٹادیتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے گناہوں پر کوئی شہادت دینے والا نہ ہوگا۔ مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ اے اللہ! آپ تو ایسے باعطا اور باوفا ہیں اور ہم اتنے ہی بے وفا اور پُر جفا ہیں ۔ ------------------------------