کلمہ کے آخری حرف کا اعراب معلوم ہو۔
فائدہ اس علم کا یہ ہے کہ اس سے عربی زبان بولنے میں اور لکھنے میں غلطی کرنے سے آدمی محفوظ رہتا ہے۔
لفظ: جو بات بھی آدمی کے منہ سے نکلے۔
لفظِ موضوع: معنی دار لفظ ۔ جیسے: قَلَمٌ۔
لفظِ مہمل: بے معنیٰ لفظ۔ جیسے: دَیْز (زید کا اُلٹا)۔
لفظ موضوع کی دو قسمیں ہیں: مفرد اور مرکب۔
مفرد وہ اکیلا لفظ ہے جو ایک معنی بتائے۔ جیسے: قَلَمٌ۔
کلمہ: مفرد کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔
کلمہ کی تین قسمیں ہیں: اسم ، فعل اور حرف۔
اسم وہ کلمہ ہے جس کے معنی دوسرے کلمہ کو ملائے بغیر سمجھ میں آجائیں اور اس میں تین زمانوں میںسے کوئی زمانہ نہ پایا جائے۔ جیسے: قَلَمٌ، کِتَابٌ۔
فعل وہ کلمہ ہے جس کے معنی دوسرے کلمہ کو ملائے بغیر سمجھ میں آجائیں اور اس میں تین زمانوں1 میں سے کوئی زمانہ پایا جائے۔ جیسے: کَتَبَ (لکھا اس نے گزشتہ زمانہ میں)، یَکْتُبُ (لکھتا ہے وہ فی الحال یا لکھے گا وہ آیندہ زمانہ میں) ۔
حرف وہ کلمہ ہے جس کے معنیٰ دوسرے کلمہ کو ملائے بغیر سمجھ میں نہ آئیں۔ جیسے: مِنْ (سے)، فِيْ (میں)، إِلٰی (تک)، عَلٰی (پر)۔ جب تک ان حرفوں کے ساتھ کوئی اسم یا فعل نہ